data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: مقامی سونے کی مارکیٹ میں ایک ماہ کے دوران تاریخی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں صرف 29 دن کے دوران فی تولہ قیمت میں 1 لاکھ 18 ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صرف 29 دن میں فی تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ 54 ہزار روپے سے بڑھ کر 5 لاکھ 72 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، یہ اضافہ معمول کے سالانہ اتار چڑھاؤ سے کہیں زیادہ ہے اور سونے کی تاریخ میں غیر معمولی رجحان کے طور پر ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

عالمی سطح پر بھی سونے کی قیمتوں میں تیزی رہی، جہاں فی اونس سونا 1 ہزار 163 ڈالر مہنگا ہوا اور پہلی بار فی اونس سونے کی قیمت ساڑھے پانچ ہزار ڈالر سے تجاوز کر گئی۔

یاد رہے کہ آج فی تولہ سونے کی قیمت میں 21 ہزار 200 روپے کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد ایک تولہ سونا ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 5 لاکھ 72 ہزار 862 روپے پر پہنچ گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اضافہ بنیادی طور پر عالمی اقتصادی ماحول اور مرکزی بینکوں کی حکمت عملی کی وجہ سے ہے کیونکہ دنیا کے بڑے سینٹرل بینک اپنے ڈالر ذخائر کو سونے میں تبدیل کر رہے ہیں، جس سے سونے کی عالمی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مالی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کا غیر معمولی اضافہ سرمایہ کاروں کے لیے موقع بھی فراہم کرتا ہے، جبکہ سونے کی بڑھتی قیمتیں عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور افراط زر کے خدشات کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔

مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا مشورہ ہے کہ سرمایہ کار اس رجحان کو دھیان میں رکھتے ہوئے اپنے مالی فیصلے کریں کیونکہ سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مستقبل میں بھی جاری رہنے کے امکانات موجود ہیں۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سونے کی قیمت ہزار روپے فی تولہ

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا