جرمنی کے لیے پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ، 15 ٹاول ایکسپورٹرز نے سسٹین ایبلٹی رپورٹس مکمل کر لیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
پاکستانی مصنوعات کی جرمنی میں برآمدات میں حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس سلسلے میں، جرمن حکومت کے گرین پاکستان پراجیکٹ کے پہلے مرحلے میں 15 ٹاول ایکسپورٹرز نے جرمن “ڈیو ڈیلیجنس ایکٹ” کے تحت اپنی سسٹین ایبلٹی رپورٹس مکمل کر لی ہیں، جس کے نتیجے میں وہ 300 جرمن درآمد کنندگان تک براہِ راست رسائی حاصل کر سکیں گے۔
ٹاول مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن میں منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے جرمن قونصلر برائے کمرشل اینڈ اکنامک افیئرز، مسز اینا کلاس نے کہا کہ پاکستان اور یورپ کے درمیان معاشی شراکت داری مضبوط اور دیرپا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی جرمنی میں زبردست مانگ ہے اور یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے ٹیکسٹائل سیکٹرز کے درمیان تعلقات کافی گہرے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، “اگر پاکستان اور جرمنی مل کر کام کریں تو ہمارا مستقبل مزید پائیدار اور روشن ہوگا۔ ہمیں خوشی ہے کہ پاکستانی ایکسپورٹرز جرمن امپورٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ فعال رابطے میں ہیں۔”
ورکشاپ کے دوران گرین پاکستان پراجیکٹ کے سربراہ ڈاکٹر مائیکل اریڈز نے بتایا کہ پراجیکٹ کے تحت پاکستانی برآمد کنندگان کو 12 مختلف سرٹیفکیشن کے تقاضوں کے مطابق یورپی مارکیٹ تک رسائی میں سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ پراجیکٹ 2025 کے آغاز سے فعال ہے اور اس سال کے اختتام تک جاری رہے گا۔
ڈاکٹر مائیکل نے بتایا کہ جرمن حکومت نے گرین پاکستان پراجیکٹ کے لیے ایک “ڈیش بورڈ” بھی تیار کیا ہے، جس میں وہ صنعتیں شامل ہوں گی جنہوں نے سسٹین ایبلٹی رپورٹس مکمل کی ہیں۔ اس ڈیش بورڈ کے ذریعے نہ صرف پاکستانی ایکسپورٹرز جرمنی کے 300 درآمد کنندگان سے براہِ راست رابطہ قائم کر سکیں گے بلکہ ان کے لیے برآمدی آرڈرز حاصل کرنے کے مواقع بھی بڑھ جائیں گے۔
یہ اقدام پاکستانی مصنوعات خصوصاً ٹیکسٹائل اور ٹاول کی برآمدات کے فروغ میں اہم پیش رفت ثابت ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پراجیکٹ کے
پڑھیں:
امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔
نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔
پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کیامریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔
Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9
— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026
ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔
نمائش 5 روز تک جاری رہے گی‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔
امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔
امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زورتقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔
أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.
شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu
— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔
لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔
ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زوروفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔
امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔
اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم