محکمہ موسمیات نے 31 جنوری سے 3 فروری تک مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا امکان ظاہر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) محکمہ موسمیات نے 31 جنوری سے 3 فروری تک مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا امکان ظاہر کردیا۔تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات نے شمالی بلوچستان اور شمالی علاقوں میں آئندہ دنوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی کردی۔
محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ 31 جنوری سے 3 فروری کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا امکان ہے۔گلگت بلتستان، کشمیر اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارش وبرفباری کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ یکم سے 3 فروری کےدوران اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار میں بارش کا امکان ہے۔ موسم کا حال بتانے والوں کا کہنا تھا کہ یکم سے 3فروری کےدوران پنجاب، مری اور گلیات میں بھی بارش کا امکان ہے جبکہ بالائی خیبرپختونخوا،گلگت بلتستان اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈسلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔
جس شخص پر 3قاتلانہ حملے ہو چکے ہوں، اسے بغیر اطلاع، بغیر ذاتی معالج اور بغیر قانونی اجازت کہیں اور لے جانا محض تشویش ناک نہیں بلکہ خطرناک سازش کی بو دیتا ہے،سردارعبدالقیوم نیازی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مختلف علاقوں میں بارش میں بارش اور برفباری محکمہ موسمیات کا امکان
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور