Al Qamar Online:
2026-07-24@05:09:18 GMT

اترا کھنڈ،کشمیری شال فروشوں پر جنونی ہندوﺅں کا حملہ

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

اترا کھنڈ،کشمیری شال فروشوں پر جنونی ہندوﺅں کا حملہ

دہرادون: ہندوتوا کی پیروکار مودی سرکار نے جنونی ہندوﺅں کو باﺅلے کتوں کی طرح ملک بھر میں چھوڑ رکھا ہے جو ملک کے مختلف حصوں میں کشمیریوں اور مسلمانوں کو کاٹتے پھر رہے ہیں۔

تازہ واقعے میں دہرادون میں کشمیر شال فروخت کرنے والے 2 کشمیری نوجوانوں کو جنونی ہندوﺅں کے جتھوں نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے ، جس کے خلاف مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔متاثرہ کشمیری نوجوان شال بیچنے کے لیے کشمیر سے اتراکھنڈ آئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق 2مسلم کشمیری نوجوان دہرادون کے وکاس نگر بازار میں ڈاک پتھر روڈ پر ایک دکان سے کچھ سامان خریدنے گئے تھے۔ الزام ہے کہ دکان پر موجود لوگوں نے ان کے خلاف مذہبی اور نسلی تبصرے کیے۔

متاثرین کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد انہیں پہلگام دہشت گردانہ حملے سے جوڑتے ہوئے قابل اعتراض تبصرہ کیا گیا اور جب انہوں نے احتجاج کیا تو ان پر جان لیوا حملہ کیا گیا۔

جموں کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر کھویہامی نے کشمیری نوجوانوں پر وحشیانہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ”انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ“ قرار دیا ہے۔

 سماجی رابطہ گاہ ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں ناصر نے کہا کہ متاثرہ نوجوان اپنے اہل خانہ کے ساتھ سردیوں میں شال فروخت کر کے روزی روٹی کما رہا تھا کہ اچانک شرپسند عناصر کے ایک گروہ نے اسے نشانہ بنایا۔

ناصر کھویہامی نے متاثرہ کے رشتہ داروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 18سالہ (متاثرہ) نوجوان سے شناخت پوچھی گئی اور جوں ہی اس نے اپنے مسلم اور وہ بھی کشمیری ہونے کا ذکر کیا تو اس پر مزید تشدد ڈھایا گیا۔

ناصر نے کہا کہ ”نوجوان کو بے رحمی سے مارا پیٹا گیا، لوہے کی سلاخوں سے اس کے سر اور بازو پر وار کیے گئے، جس کے نتیجے میں اس کا بایاں بازو ٹوٹ گیا اور سر پر گہری اور شدید چوٹیں آئیں۔“

 ان کے مطابق ”خون میں لت پر نوجوان کو ایک مقامی اسپتال اور بعد ازاں دہرہ دون کے دون اسپتال منتقل کیا گیا۔“

وکاس نگر بازار پولیس اسٹیشن پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے۔ جائے وقوع پر جمع مسلم طبقے کے لوگوں نے زخمی نوجوانوں کو کندھوں پر اٹھا کر پولیس اسٹیشن کا گھیرائو کیا اور ”مسلمانوں پر ظلم بند کرو“ جیسے نعرے لگائے۔

مظاہرین نے الزام لگایا کہ اتراکھنڈ میں مذہب کی بنیاد پر مسلم کمیونٹی کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے سخت کارروائی کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم ہوا۔

حملے میں زخمی ہونے والے نوجوانوں کے ایک رشتہ دار عبدالرشید مہیر نے بتایا کہ وہ ہر سال نومبر سے مارچ کے درمیان اتراکھنڈ میں کشمیری کپڑے فروخت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ سال 2008 سے یہاں آ رہے ہیں، جب کہ متاثرین یہاں پہلی بار آئے ہیں۔

 الزام ہے کہ متاثرہ نوجوانوں کو مذہب منافرت کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا اور ان پر حملہ کیا گیا۔

متاثرین کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

 ایک ملزم سنجے یادو کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

 پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

وکاس نگر پولیس اسٹیشن کے ایس ایس آئی ششوپال رانا نے بتایا کہ واقعہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ جموں کے رہنے والے دانش اور تابش بدھ کو وکاس نگر مارکیٹ میں کمبل اور سوٹ بیچنے گئے تھے۔

اس دوران وہ ڈاک پتھر کے ایک جنرل اسٹور پر کچھ سامان خریدنے گئے۔ اسی بیچ دکان کے مالک اور کشمیری کاروباریوں میں جھگڑا ہوا جو مار پیٹ کی شکل اختیار کر گیا۔

TagsImportant News from Al Qamar.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کشمیری نوجوان نشانہ بنایا وکاس نگر کیا گیا

پڑھیں:

کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

کراچی:

شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پولیس نے مبینہ مقابلوں کے دوران چار ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا جبکہ ایک فرار ہونے والے مبینہ ڈاکو کو شہریوں نے پکڑ کر تشدد کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا۔

پولیس اور چھیپا حکام کے مطابق اورنگی ٹاؤن تھانے کی حدود میں سیکٹر 8، اللہ والا کالج کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ایک مبینہ ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔

زخمی ملزم کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت سبیل کے نام سے ہوئی۔ ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا۔

ادھر بوٹ بیسن تھانے کی حدود میں کلفٹن، عبداللہ شاہ غازی مزار پل کے قریب مبینہ مقابلے کے دوران ایک مبینہ ڈاکو پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہو گیا، جس کی شناخت مانی کے نام سے ہوئی۔

اسے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس دوران فرار ہونے کی کوشش کرنے والے دوسرے مبینہ ملزم کو شہریوں نے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا بعد ازاں اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ زخمی ملزم کی شناخت سکندر کے نام سے کی گئی۔

دوسری جانب شرافی گوٹھ پولیس نے کورنگی سنگر چورنگی کے قریب راڈو بیکری کے علاقے میں مبینہ مقابلے کے بعد ایک مبینہ ڈاکو اویس کو زخمی حالت میں گرفتار کیا۔ ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ اس کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد ہوا۔

اسی طرح قائدآباد تھانے کی حدود میں لانڈھی شیر پاؤ کالونی، مولیٰ مدد قبرستان کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ایک اور مبینہ ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔

چھیپا حکام کے مطابق زخمی ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت وارث خان کے نام سے ہوئی۔

متعلقہ مضامین

  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار