کوئٹہ پولیس نے احتجاج کرنیوالے ملازمین کیساتھ سیاسی رہنماؤں کو بھی گرفتار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
احتجاج کرنیوالے ملازمین کیخلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے پولیس نے ملازمین کی حمایت کرنیوالے سیاسی رہنماؤں کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سرکاری ملازمین کے احتجاج کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کوئٹہ پولیس نے ملازمین کے ساتھ ساتھ ان کی حمایت کرنے والے سیاسی رہنماؤں کو بھی گرفتار کر لیا۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء ڈاکٹر رمضان ہزارہ بھی گرفتار ہو گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق آج ایک بار پھر سرکاری ملازمین اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر آئیں۔ کوئٹہ پولیس نے حسب روایت ملازمین پر ہلہ بول دیا۔ ملازمین کی گرفتاری کے موقع پر ان کی حمایت کرنے والی سیاسی شخصیات کو بھی پولیس نے گرفتار کر لیا۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء ڈاکٹر رمضان ہزارہ، اقلیتی رہنماء درشن کمار اور عنایت بزدار بھی اس موقع پر گرفتار ہو گئے ہیں۔ نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اسلم بلوچ نے حکومتی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار ملازمین اور سیاسی رہنماؤں کو جلد رہا کرکے ان کے جائز مطالبات تسلیم کئے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا ملازمین کی بھی گرفتار پولیس نے کو بھی
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔