لاہور: بھاٹی گیٹ سیورج لائن واقعے میں نامزد تینوں ملزمان گرفتار، پولیس
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں ماں اور بیٹی کے سیورج لائن میں گرنے کے واقعے میں پولیس نے مقدمے میں نامزد تینوں ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان میں پروجیکٹ مینجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج دانیال، سائیٹ انچارج احمد نواز شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق متوفیہ کے والد ساجد حسین کے بیان پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مقدمہ حادثاتی موت کی دفعہ 322 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے مین ہول کھلا چھوڑ کر غفلت اور لاپرواہی کی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بھاٹی گیٹ علاقے میں ماں اپنی بیٹی سمیت سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہوگئی تھی۔ انتظامیہ نے ابتداء میں واقعے کو دبانے اور میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور ماں، بچی کے گرنے کی اطلاع کو جعلی قرار دیا۔
انتظامیہ کا موقف تھا کہ ایسا کوئی حادثہ پیش ہی نہیں آیا، تکنیکی طور پر اس ہول میں کسی انسان کا ڈوبنا ممکن ہی نہیں۔
دوسری جانب پولیس نے بھی ابتدائی تفتیش میں واقعے کو میاں بیوی کے جھگڑے کا رنگ دینے کی کوشش کی، شوہر کا بیوی کے ساتھ تنازع اور سنگین الزامات کی رپورٹ بنا دی۔
شک کی بنیاد پر شوہر سمیت 3 افراد کو حراست میں بھی لیا بعد میں کہا کہ کسی کو حراست میں نہیں لیا۔
علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب نے پروجیکٹ ڈائریکٹر، مینجر اور کنسلٹنٹ کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔