ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کی نشاندہی کے لیے نیا فیچر متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت ایسی تصاویر کو ترمیم شدہ میڈیا کے لیبل کے ساتھ دکھایا جائے گا۔
ایکس کے مالک ایلون مسک نے اس اقدام کا اشارہ ایک مختصر پوسٹ کے ذریعے دیا، جبکہ پلیٹ فارم کی نئی خصوصیات سامنے لانے والے اکاؤنٹ ڈاج ڈیزائنز کی جانب سے بھی اس حوالے سے اعلان کیا گیا۔ تاہم تاحال ایکس انتظامیہ نے باضابطہ طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ یہ سسٹم کس طرح کام کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’واٹس ایپ محفوظ نہیں‘، ایلون مسک کی صارفین کو وارننگ
یہ تفصیل بھی سامنے نہیں آسکی کہ یہ لیبل صرف مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر پر لاگو ہوگا یا روایتی ایڈیٹنگ سافٹ ویئر جیسے فوٹو شاپ کے ذریعے تبدیل کی گئی تصاویر بھی اس میں شامل ہوں گی۔
Edited visuals warning https://t.
— Elon Musk (@elonmusk) January 28, 2026
یاد رہے کہ ری برانڈنگ سے قبل ٹوئٹر میں ایک پالیسی موجود تھی جس کے تحت ایڈیٹ یا تبدیل شدہ میڈیا کو ہٹانے کے بجائے اس پر لیبل لگایا جاتا تھا، جس میں ویڈیو کی رفتار کم کرنا، سب ٹائٹلز میں تبدیلی، آواز شامل کرنا یا تصویر کو کراپ کرنا شامل تھا۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ ایکس اسی پرانی پالیسی کو دوبارہ نافذ کررہا ہے، اسے مصنوعی ذہانت کے تناظر میں تبدیل کیا جارہا ہے یا مکمل طور پر نیا فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی ایلون مسک کے ’گروکی پیڈیا‘ سے استفادہ کرنے لگا
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیچر کے نفاذ پر سوالات برقرار ہیں، کیونکہ ماضی میں غیر مستند یا جعلی میڈیا سے متعلق پالیسیوں پر عملدرآمد یکساں نہیں رہا۔ حالیہ عرصے میں ڈیپ فیک تصاویر سے متعلق معاملات نے بھی ان خدشات کو تقویت دی ہے۔
ایکس کی جانب سے یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ صارفین لیبل پر اعتراض یا اپیل کیسے کر سکیں گے، یا اس حوالے سے صرف کمیونٹی نوٹس پر انحصار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایڈٹڈ ویڈیو ایکس ایلون مسک لیبل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایکس ایلون مسک لیبل ایلون مسک
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔