Jasarat News:
2026-07-24@09:34:17 GMT

افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام محض ایک عقیدہ نہیں
اسلام محض ایک عقیدہ نہیں ہے‘ نہ وہ محض چند ’’مذہبی‘‘ اعمال اور رسموں کا مجموعہ ہے‘ بلکہ وہ انسان کی پوری زندگی کے لیے ایک مفصل اسکیم ہے۔ اس میں عقائد‘ عبادات اور عملی زندگی کے اصول و قواعد الگ الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ سب مل کر ایک ناقابل تقسیم مجموعہ بناتے ہیں‘ جس کے اجزا کا باہمی ربط بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ ایک زندہ جسم کے اعضا میں ہوتا ہے۔
آپ کسی زندہ آدمی کے ہاتھ اور پائوں کاٹ دیں‘ آنکھیں اور کان اور زبان جدا کر دیں‘ معدہ اور جگر نکال دیں‘ پھیپھڑے اور گردے الگ کردیں‘ دماغ بھی پورا یا کچھ کم و بیش کاسۂ سر (سر کی کھوپڑی) سے خارج کر دیں اور بس ایک دل اُس کے سینے میں رہنے دیں۔ کیا یہ باقی ماندہ حصۂ جسم زندہ رہ سکے گا؟ اور اگر زندہ بھی رہے تو کیا وہ کسی کام کا ہوگا؟

ایسا ہی حال اسلام کا بھی ہے۔ عقائد اس کا قلب ہیں۔ وہ طریق فکر (attitude of mind)، نظریہ حیات (view of life)، مقصد زندگی اور معیار قدر (standard of values) جو ان عقائد سے پیدا ہوتا ہے اس کا دماغ ہے‘ عبادات اس کے جوارح (اعضا) اور قوائم (پائے بنیادیں) ہیں جن کے بل پر وہ کھڑا ہوتا ہے اور کام کرتا ہے۔ معیشت‘ معاشرت‘ سیاست اور نظم اجتماعی کے تمام وہ اصول جو زندگی کے لیے اسلام نے پیش کیے ہیں وہ اس کے لیے معدے اور جگر اور دوسرے اعضائے رئیسہ (دل جگر، دماغ) کا حکم رکھتے ہیں۔ اس کو صحیح و سالم آنکھوں اور بے عیب کانوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ زمانے کے احوال و ظروف کی ٹھیک ٹھیک رپورٹیں دماغ تک پہنچائیں اور دماغ ان کے متعلق صحیح حکم لگائے۔ اس کو اپنے قابو کی زبان درکار ہے تاکہ وہ اپنی خودی کا کما حقہ اظہار کرسکے۔ اس کو پاک صاف فضا کی حاجت ہے جس میں وہ سانس لے سکے۔ اس کو طیب و طاہر غذا مطلوب ہے جو اس کے معدے سے مناسبت رکھتی ہو اور اچھا خون بنا سکے۔
اس پورے نظام میں اگرچہ قلب (یعنی عقیدہ) بہت اہمیت رکھتا ہے‘ مگر اس کی اہمیت اسی لیے تو ہے کہ وہ تمام اعضا و جوارح کو زندگی کی طاقت بخشتا ہے۔ جب اکثر و بیش تر اعضا کٹ جائیں، جسم سے خارج کر دیے جائیں یا خراب ہو جائیں تو اکیلا قلب تھوڑے بہت بچے کھچے خستہ و بیمار اعضا کے ساتھ کیسے زندہ رہ سکتا ہے؟ اور اگر زندہ بھی ہے تو اس زندگی کی کیا وقعت (قدر و قیمت) ہوسکتی ہے؟ (تنقیحات)

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ گلزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر

لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3  سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘

ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔

حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔

شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔

یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔

واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش پانی زیر آب لاہور

متعلقہ مضامین

  • زندگی کا مقصد
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت