انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی بھارت نوازی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کرکٹ اب صرف ایک کھیل نہیں رہا۔ یہ اب دل ٹوٹنے کی کہانیاں، خوابوں کی تباہی، اور طاقتور کے سامنے کمزور کی چیخ و پکار کا میدان بن چکا ہے۔ جب ایک ملک کی ٹیم کو ورلڈ کپ سے نکال دیا جائے، صرف اس لیے کہ وہ اپنے کھلاڑیوں کی عزت اور حفاظت کی بات کرے، تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ 2026 میں بنگلا دیش کو خارج کر کے اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کا آئی سی سی کا فیصلہ کوئی محض انتظامی اقدام نہیں؛ یہ ایک قوم کے جذبات پر طمانچہ ہے، ایک غیرت مند ملک کی توہین ہے، اور سب سے بڑھ کر، آئی سی سی کی بھارت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی زندہ مثال ہے۔ یہ سب کچھ جنوری 2026 میں اس وقت شروع ہوا جب مصطفی ظریف رحمن (مصطفی رحمن) کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 سے نکال دیا گیا۔ کولکتہ نائٹ رائڈرز نے اسے 9.
شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ بی سی بی نے آئی سی سی سے گزارش کی کہ ان کے میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں، جہاں پاکستان کے میچز پہلے سے ہی نیوٹرل وینیو پر شیڈول تھے۔ مگر آئی سی سی نے انکار کر دیا اور کہا کہ ’’کوئی سنگین سیکورٹی خطرہ نہیں‘‘، یہ کہہ کر انہوں نے بنگلا دیش کی آواز کو دبا دیا۔ 24 جنوری 2026 کو فیصلہ آ گیا: بنگلا دیش کو ٹورنامنٹ سے خارج، اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا گیا۔ ٹیسٹ کر کٹ کھیلنے والا ایک ملک، جو حالیہ برسوں میں بہترین کارکردگی دکھا رہا تھا، اسے یوں ذلیل کر دیا گیا۔ بنگلا دیشی کھلاڑی، جو ورلڈ کپ کے لیے ہفتوں سے تیاری کر رہے تھے، ان کے خواب چکناچور ہو گئے۔ میڈیا، آفیشلز، فینز سب کو ایک ساتھ توہین کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ صرف کرکٹ کی بات نہیں؛ یہ ایک قوم کے دل پر وار تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ آئی سی سی نے بھارت کی حمایت کیوں کی؟ کیونکہ بھارت کرکٹ کا ڈکٹیٹر ہے۔ بی سی سی آئی کی مالی طاقت آئی سی سی کی 70-80 فی صد آمدنی ہے۔ آئی پی ایل، ٹی وی رائٹس، اسپانسرشپ، سب کچھ بھارت سے جڑا ہے۔ جب بھارت نے 2025 چمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان نہ جانے کا فیصلہ کیا تو آئی سی سی نے ’’ہائبرڈ ماڈل‘‘ بنا کر اسے قبول کر لیا۔ مگر جب بنگلا دیش نے وہی مطالبہ کیا تو کہا گیا کہ ’’یہ مثال نہیں بن سکتا‘‘ کہہ کر انکار کر دیا۔ یہ دوہرا معیار نہیں تو کیا ہے؟ پاکستان نے بنگلا دیش کی حمایت کی۔ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے کھل کر کہا: ’’یہ انصاف نہیں، ڈبل اسٹینڈرڈز ہیں‘‘۔ دوسرے معیارات ہیں پاکستان نے بائیکاٹ کی دھمکی دی، مگر آئی سی سی نے جرمانوں کی دھمکی دے دی۔ یہ سب دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ دنیا کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔ کرکٹ اب طاقتوروں کا کھیل بن چکی ہے، جہاں کمزور کی آواز دب جاتی ہے۔ بنگلا دیش کے کھلاڑیوں نے برسوں سے محنت کی، درد سہے، مگر آج انہیں یوں دھکے دے دیے گئے۔ مصطفی رحمن جیسے ہیرو کو نفرت کی نذر کر دیا گیا۔ ایک قوم کے خواب چکناچور ہوئے۔ آئی سی سی نے نفرت انگیز پروپیگنڈے پر آنکھیں موند لیں، مگر بنگلا دیش کی حفاظت کی بات پر کان نہ دی۔ یہ شرمناک بات ہے۔ آئی سی سی میں ذرا بھی غیرت ہوتی تو وہ ڈوب کر مرجاتے۔ کیا یہ ادارہ عالمی ہے، یا صرف ایک ملک کا غلام؟ اگر بھارت کی طاقت کی وجہ سے دوسرے ممالک کے حقوق پامال ہوتے رہے تو کرکٹ کی ساکھ ختم ہو جائے گی۔ بنگلا دیش کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے۔ نفرت کو روکا جائے۔ کرکٹ کو سیاست سے الگ رکھا جائے۔ ورنہ یہ کھیل صرف پیسے اور طاقت کا آلہ بن کر رہ جائے گا، جہاں کمزور کے آنسوؤں کی کوئی قیمت نہیں ہو گی۔ دل ٹوٹنے کی یہ ناانصافیاں بند ہونی چاہیے۔ کرکٹ کو دوبارہ قوموں کے درمیان محبت اور احترام کا کھیل بنانا ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بنگلا دیشی کھلاڑی بنگلا دیش کی ا ئی پی ایل دیا گیا ورلڈ کپ کی بات کر دیا
پڑھیں:
تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) نے تصدیق کی ہے کہ آئندہ سال ہونے والے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی لارڈز کے بجائے لندن کے دی اوول کو سونپی گئی ہے۔
آئی سی سی کے مطابق ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل 9 جون سے 13 جون 2027 تک اوول میں کھیلا جائے گا۔
آئی سی سی نے گزشتہ سال اعلان کیا تھا کہ انگلینڈ کو 2027، 2029 اور 2031 کے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنلز کی میزبانی کے حقوق دیے گئے ہیں، جبکہ ہر ایڈیشن کے لیے میزبان گراؤنڈ کا انتخاب انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ خود کرے گا۔
خیال کیا جا رہا تھا کہ2027 ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل ممکنہ طور پر گزشتہ فائنل کی طرح تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں ہوگا۔لیکن انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے اس کے بجائے دی اوول میں فائنل کرانے کا فیصلہ کیا۔
مزیدپڑھیں:10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ لارڈز کی پچوں کے معیار پر خدشات ہیں۔
گزشتہ ماہ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچ کی پچ کو غیر تسلی بخش قرار دیے جانے پر لارڈز کو پہلی بار آئی سی سی کی جانب سے ڈی میرٹ پوائنٹ دیا گیا تھا۔
یہ دوسرا موقع ہوگا کہ اوول ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی کرے گا۔
اس سے قبل 2023 میں بھی فائنل اسی میدان میں کھیلا گیا تھا، جہاں آسٹریلیا نے بھارت کو شکست دے کر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔