ایران پر حملہ پوری مسلم دنیا پر حملہ تصور ہوگا: ایرانی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ اگر ایران پر کوئی حملہ کیا گیا تو اسے محض ایران پر حملہ نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا پر حملہ سمجھا جائے گا۔
اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور اب بھی امید ہے کہ صورتحال جنگ کی طرف نہیں بڑھے گی، تاہم اگر ایران پر حملہ ہوا تو یہ مسلم دنیا کے لیے ایک بڑا حملہ ہوگا۔
انہوں نے ایران میں حالیہ پرتشدد مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دہشتگرد کارروائیوں کے دوران بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا، جن میں 2 ہزار سکیورٹی اہلکاروں سمیت تین ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ان کارروائیوں میں 690 دہشتگرد بھی مارے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور امریکہ کے مطالبات ناقابل قبول ہیں۔
ایرانی سفیر نے پاکستانی حکومت کی ایران کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی قیادت میں پاکستان نے اصولی موقف اختیار کیا اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مخلصانہ کردار ادا کیا۔
انہوں نے جنیوا میں پاکستان کے مستقل مشن کی پیشہ ورانہ کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان کی یہ حمایت ایران ہمیشہ عزت و قدر کے ساتھ یاد رکھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران پر پر حملہ کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔