عالمی منظر نامے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت، لندن میں اہم مکالمہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
پاکستان کے ہائی کمشنر برائے برطانیہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ کہ پاکستان اپنی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت، ابھرتی ہوئی معیشت، سرمایہ کاری کے متنوع مواقع، مضبوط دفاعی صلاحیتوں اور متحرک نوجوان آبادی کی بدولت عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے۔
پاکستان ہائی کمیشن لندن میں عالمی منظرنامے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار پر ایک اہم مباحثے کا انعقاد کیا گیا۔ یہ نشست لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس کی اسٹوڈنٹس یونین کی پاکستان ڈویلپمنٹ سوسائٹی کے تعاون سے منعقد ہوئی، جس میں نوجوانوں اور سفارتی حلقوں کے درمیان بامقصد مکالمہ ہوا۔
تقریب میں پاکستان کے ہائی کمشنر برائے برطانیہ ڈاکٹر محمد فیصل، لندن اسکول آف اکنامکس کے مختلف شعبہ جات میں زیرِ تعلیم طلبہ اور پاکستان ہائی کمیشن کے افسران نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ برطانیہ کی معروف جامعات، جن میں کنگز کالج، امپیریل کالج، کوئین میری یونیورسٹی، وارک یونیورسٹی اور یونیورسٹی کالج لندن شامل ہیں، کے طلبہ بھی مباحثے میں شریک ہوئے۔
اپنے کلیدی خطاب میں ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان اپنی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت، ابھرتی ہوئی معیشت، سرمایہ کاری کے متنوع مواقع، مضبوط دفاعی صلاحیتوں اور متحرک نوجوان آبادی کی بدولت عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے۔
حالیہ علاقائی پیش رفت کا ذکرہائی کمشنر نے کہا کہ حالیہ بھارت کے ساتھ تصادم کے دوران معرکۂ حق اور آپریشن بنیانُ المرصوص میں پاکستان کی کامیابی کو عالمی برادری نے تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم نے اتحاد و یکجہتی کے ساتھ وسائل اور حجم میں بڑے دشمن کا مؤثر مقابلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے دنیا نے پاکستان کی مضبوط سفارتی پالیسی اور عالمی کردار کو مان لیا، عالمی جریدہ
ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قیادت ترقی پسند اور خود انحصاری پر مبنی پالیسیوں کے ذریعے دنیا کو واضح پیغام دے رہی ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ریاست ہے اور خطے میں استحکام کا خواہاں ہے۔
ہائی کمشنر نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ جدید علم اور مہارتیں حاصل کریں تاکہ بدلتے ہوئے عالمی حالات اور چیلنجز کے تناظر میں پاکستان کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
سوال و جواب اور کھلا مکالمہنشست کے دوران طلبہ نے فعال انداز میں سوالات کیے، جن کے جواب میں ڈاکٹر محمد فیصل نے پاکستان کی خارجہ پالیسی، معاشی اصلاحات کے ایجنڈے اور قومی ترقی میں نوجوانوں کے کلیدی کردار پر تفصیلی گفتگو کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر محمد فیصل میں پاکستان ہائی کمشنر کہ پاکستان پاکستان کے پاکستان کی نے کہا
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔