کوہستان کرپشن اسکینڈل میں بڑی پیشرفت، 10 ملزمان نے سرنڈر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
احتساب عدالت کے انتظامی جج محمد ظفرخان نے کوہستان مالیاتی اسکینڈل کیس کی سماعت کی اور اس موقع پر نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل محمد علی، پراسیکیوٹر مانک شاہ اور نیب کے انویسٹی گیشن افسر محمد عنایت اللہ بھی پیش ہوئے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں سامنے آنے والے کوہستان مالیاتی سکینڈل میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور 10 ملزمان نے خود کو سرنڈر کر دیا اور کروڑوں روپے مالیت کے اثاثوں سے دستبرداری کی درخواست احتساب عدالت میں جمع کرادی۔ احتساب عدالت کے انتظامی جج محمد ظفرخان نے کوہستان مالیاتی اسکینڈل کیس کی سماعت کی اور اس موقع پر نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل محمد علی، پراسیکیوٹر مانک شاہ اور نیب کے انویسٹی گیشن افسر محمد عنایت اللہ بھی پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران ملزمان نے عدالت میں درخواست دائر کی اور مؤقف اختیار کیا کہ نیب نے کوہستان کرپشن اسکینڈل میں ان کی مختلف ملکیتی اثاثے قبضے میں لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان اثاثوں سے دستبردا ر ہونا چاہتے ہیں کیونکہ مرکزی ملزمان نے یہ جائیداد اور اثاثے ان کے نام پر لیے ہیں اور وہ بےنامی دار ہیں۔ ملزمان نے درخواست دی ہے کہ ان کا ان جائیدادوں اور اثاثوں سے کوئی تعلق نہیں اور اگر نیب یہ تحویل میں لینا چاہتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
اس موقع پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل محمد علی نے عدالت کو بتایا کہ اگر یہ ملزمان ان اثاثوں سے دستبردار ہوتے ہیں تو نیب ان کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہیں کرے گی، ان اثاثوں میں پلاٹس اور قیمتی گاڑیاں شامل ہیں۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ مرکزی ملزمان نے ان کے نام پر یہ جائیدادیں اور اثاثے خریدی ہیں اور یہ تمام بےنامی دار ہیں۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب محمد علی نے بتایا کہ سرنڈر کرنے والے ملزمان کوہستان اسکینڈل میں بے نامی دار ہیں اور وہ 23 کروڑ 77 لاکھ 78 ہزار 600 روپے کے اثاثے واپس کرنا چاہتے ہیں۔ عدالت نے تمام ملزمان کے بیانات قلم بند کیے اور درخواست پر تحریری فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محمد علی ہیں اور نیب کے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔