غزہ جنگ: اسرائیلی فوج کا پہلی بار 71 ہزار فلسطینیوں کی ہلاکت کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے پہلی مرتبہ غزہ جنگ کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد تقریباً 71 ہزار تسلیم کر لی ہے۔ یہ اعتراف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اسرائیلی کارروائیوں پر شدید تنقید جاری ہے۔
اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق اسرائیلی دفاعی فورسز نے تسلیم کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران یہ بھاری جانی نقصان ہوا۔ اس سے قبل اسرائیل غزہ کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کو مسلسل ناقابلِ اعتبار قرار دیتا رہا، تاہم اقوام متحدہ ان اعداد و شمار کو معتبر اور قابلِ اعتماد سمجھتا ہے۔
آئی ڈی ایف کے مطابق تسلیم کی گئی تعداد میں صرف وہ فلسطینی شامل ہیں جو براہِ راست اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں مارے گئے، جبکہ ملبے تلے دبے لاپتہ افراد، بھوک، بیماری اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث ہونے والی اموات اس میں شامل نہیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 71 ہزار 667 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سے 90 فیصد سے زائد افراد کی شناخت ناموں اور شناختی نمبرز کے ذریعے ہو چکی ہے۔
دوسری جانب جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے باوجود اسرائیلی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ طبی ذرائع کے مطابق خان یونس کے مشرقی علاقے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے مزید دو فلسطینی شہید ہو گئے۔
ریڈ کراس نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کی جانب سے 15 فلسطینیوں کی لاشیں غزہ منتقل کی گئی ہیں، جبکہ حالیہ دنوں میں قیدیوں کے تبادلے کا عمل بھی مکمل ہوا ہے۔
ادھر پاکستان نے ایک بار پھر فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے واضح اور مقررہ مدت پر مبنی منصوبے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ کی تنصیبات کو نشانہ بنانے، بالخصوص شیخ جراح میں یو این کمپاؤنڈ کی مسماری کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
پاکستان نے اسرائیلی آبادکاری، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور مقبوضہ علاقوں کی قانونی حیثیت بدلنے کی کوششوں کو خطے کے امن اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔