سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات و دہشت گردی کیس میں اہم پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات و دہشت گردی کیس میں اہم پیش رفت WhatsAppFacebookTwitter 0 30 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد:(آئی پی ایس) اسلام آباد ہائیکورٹ میں سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات اور دہشت گردی کے مقدمے میں اہم موڑ آ گیا۔ عدالت نے 14 ماہ گزرنے کے باوجود فرانزک رپورٹ پیش نہ کیے جانے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو 9 فروری تک رپورٹ سے متعلق آگاہ کرنے کی مہلت دے دی۔
مطیع اللہ جان کی جانب سے ٹرائل کورٹ کے آرڈر کے خلاف دائر اپیل پر جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کی۔ دوران سماعت مطیع اللہ جان اپنے وکلاء قدیر جنجوعہ اور احد کھوکھر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات کے شواہد موجود ہیں اور چارج فریم کیا جا سکتا ہے۔ جس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ “چارج فریم کیوں نہیں ہو سکتا؟”
سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ کیس میں آئیس (منشیات) کی پوزیشن موجود ہے اور گواہان بھی دستیاب ہیں، اس لیے چارج فریم ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب وکیلِ صفائی قدیر جنجوعہ نے مؤقف اختیار کیا کہ نارکوٹکس کیسز میں ویڈیو ثبوت ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ اس کیس میں کوئی ویڈیو موجود نہیں۔ جس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے سوال کیا کہ “صرف ویڈیو نہ ہونے کی بنیاد پر کیا چارج فریم نہیں ہو سکتا؟”
قدیر جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ مطیع اللہ جان گزشتہ 30 برس سے کورٹ رپورٹنگ کر رہے ہیں اور 26 نومبر کے واقعے پر رپورٹنگ کے لیے پمز گئے تھے، جس کے بعد ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا: “تو کیا یہ آپ کا ڈیفنس ہے؟”
عدالت نے کلاشنکوف برآمدگی کے الزام پر بھی سوال اٹھایا، جس پر وکیلِ صفائی نے مؤقف اپنایا کہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے مطابق منشیات کے کیسز میں ویڈیو ثبوت کے بغیر مقدمہ نہیں چل سکتا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ اگر منشیات کی پوزیشن موجود ہو تو چارج فریم نہ ہونے کی کیا وجہ ہے؟
قدیر جنجوعہ نے بتایا کہ 28 نومبر 2024 کو سیمپلز فرانزک کے لیے بھیجے گئے تھے لیکن 14 ماہ گزرنے کے باوجود رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے تفتیشی افسر سے پوچھا کہ “کیا ابھی تک فرانزک بھی نہیں ہوا؟”
تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ فرانزک کے لیے ریمائنڈر بھیجے گئے ہیں تاہم رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے سرکار کو آئندہ سماعت تک فرانزک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 9 فروری تک ملتوی کر دی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران پر حملہ ہوا تو پوری مسلم دنیا پر حملہ تصور کیا جائے گا: رضا امیری مقدم ایران پر حملہ ہوا تو پوری مسلم دنیا پر حملہ تصور کیا جائے گا: رضا امیری مقدم امید ہے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت نہ پڑے، امریکی صدر پاکستان اور روانڈا کے درمیان تجارتی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق اکاؤنٹ میں 2 ارب سے زائد منتقلی اسکینڈل، ڈی جی افسران کی پراپرٹیز تفصیلات طلب غزہ جنگ: اسرائیلی فوج نے پہلی بار 71 ہزار فلسطینیوں کے قتل کا اعتراف کرلیا ایف آئی اے اسلام آباد زون میں تقرری تبادلے ،، کون کون سے آفیسرز / آفیشلز تبدیل ہوئے ،، دستاویز و تفصیلات سب نیوز...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کیس میں
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔