بنگلا دیش کو ٹی 20 ورلڈ کپ سے باہر کرنے کے فیصلے پر سری لنکا کا موقف سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
کراچی:
آئی سی سی کی جانب سے بنگلا دیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر کرنے کے فیصلے پر سری لنکا نے طویل خاموشی کے بعد مؤقف سامنے رکھ دیا ہے۔
سری لنکا ورلڈ کپ کے دوران 20 میچزکی میزبانی کرے گا جوکہ 7 فروری سے 8 مارچ تک مختلف مقامات پر منعقد ہوں گے، عالمی کپ کا سب سے اہم میچ بھارت اور پاکستان کے درمیان15 فروری کو کولمبو میں ہوگا، سری لنکا نے ٹورنامنٹ کے پرامن انعقاد کواعلی ترین ترجیح قرار دیا ہے۔
سری لنکا کے وزیر کھیل سنیل کمارا گامگے نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ حکومت، سیکیورٹی ادارے اور کرکٹ حکام مکمل طور پر متحرک ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے، پولیس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تمام ٹیموں کی سیکیورٹی کیلیے ایلیٹ کمانڈوز تعینات کیے جائیں گے۔
ایک سیکیورٹی اہلکار کے مطابق ٹیمیں ہوائی اڈے سے لے کر واپسی تک مسلح محافظوں کی نگرانی میں ہوں گی، سیاسی کشیدگی کے باعث پاکستان نے بھارت میں اپنے میچز کھیلنے سے انکار کیا تھا جس کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے پاکستان کے میچز غیر جانبدار مقام سری لنکا منتقل کر دیے۔
بنگلہ دیش نے بھی سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر بھارت میں میچز نہ کھیلنے کی درخواست کی تھی تاہم آئی سی سی نے یہ درخواست مسترد کر دی۔ اس فیصلے پر ناراض بنگلہ دیش نے ٹورنامنٹ سے دستبرداری اختیار کر لی جس کے بعد اسکاٹ لینڈ کو متبادل ٹیم کے طور پر شامل کیا گیا۔
پاکستان نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش سے اظہار یکجہتی کے طور پر ایونٹ کے بائیکاٹ پر غور کر سکتا ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان اس تنازع پر سری لنکا نے محتاط خاموشی اختیار کیے رکھی۔
سری لنکا کرکٹ کے سیکریٹری بندولا دسانائیکے کا کہنا ہے کہ کولمبو علاقائی تنازعات میں فریق نہیں بننا چاہتا، بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش تینوں سری لنکا کے دوست ممالک ہیں، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مستقبل میں اگر کسی بھی ملک نے کرکٹ ایونٹ کی میزبانی کے لیے سری لنکا سے رابطہ کیا تو اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔
ادھر اس ٹورنامنٹ کو سری لنکا نے اپنے کرکٹ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے موقع کے طور پر بھی استعمال کیا ہے، کولمبو کے سنہالیز اسپورٹس کلب اسٹیڈیم میں نئی فلڈ لائٹس نصب کی جا چکی ہیں ۔
آئی سی سی اور بنگلادیش کے درمیان یہ تنازع تقریباً تین ہفتے تک جاری رہا، تاہم انٹرنیشنل کرکٹ باڈی نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے اثر و رسوخ میں آ کر بنگلادیش کا مؤقف تسلیم کرنے سے انکار کیا اور بالآخر اسے ٹورنامنٹ سے خارج کر دیا۔
بنگلادیش کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے چار میچز کولکتہ میں شیڈول تھے مگر ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیوں اور فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالے جانے کے بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کی سیکیورٹی پر خدشات ظاہر کرتے ہوئے میچز سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اس فیصلے کو کرکٹ حلقوں میں حیران کن قرار دیا جا رہا ہے جبکہ متعدد بھارتی صحافیوں نے بھی آئی سی سی اور بی سی سی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا، فیصلے کی وجہ بی سی سی آئی کی انا قرار دی جا رہی ہے۔ اسی دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ورلڈ کپ کے بائیکاٹ یا بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے پر غور کر سکتا ہے۔
معاملے پر سری لنکن کرکٹ بورڈ نے اب اپنا ردعمل دے دیا ہے۔ سری لنکا کے کرکٹ سیکرٹری بندولا ڈسا نائیکے نے غیر ملکی خبر ایجنسی کو بتایا کہ بھارت، بنگلادیش اور پاکستان کے تنازع پر سری لنکا نیوٹرل پالیسی اپناتا ہے کیونکہ تینوں ہمارے دوست ممالک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کہا گیا تو سری لنکا مستقبل میں بھی ٹورنامنٹس کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
سری لنکا کے وزیر کھیل سنیل کمار گمباگے نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح ٹورنامنٹ کا بہتر انعقاد ہے اور پاکستان اور بھارت کے میچ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ فروری میں شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کے تمام میچز سری لنکا میں شیڈول ہیں۔ ایونٹ کا آغاز 6 فروری جبکہ اختتام 8 مارچ کو ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سری لنکا نے پر سری لنکا سری لنکا کے پاکستان کے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ ورلڈ کپ دیا ہے کے بعد
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز