کراچی:

آئی سی سی کی جانب سے بنگلا دیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر کرنے کے فیصلے پر سری لنکا نے طویل خاموشی کے بعد مؤقف سامنے رکھ دیا ہے۔

سری لنکا ورلڈ کپ کے دوران 20 میچزکی میزبانی کرے گا جوکہ 7 فروری سے 8 مارچ تک مختلف مقامات پر منعقد ہوں گے، عالمی کپ کا سب سے اہم میچ بھارت اور پاکستان کے درمیان15 فروری کو کولمبو میں ہوگا، سری لنکا نے ٹورنامنٹ کے پرامن انعقاد کواعلی ترین ترجیح قرار دیا ہے۔

سری لنکا کے وزیر کھیل سنیل کمارا گامگے نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ حکومت، سیکیورٹی ادارے اور کرکٹ حکام مکمل طور پر متحرک ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے، پولیس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تمام ٹیموں کی سیکیورٹی کیلیے ایلیٹ کمانڈوز تعینات کیے جائیں گے۔

ایک سیکیورٹی اہلکار کے مطابق ٹیمیں ہوائی اڈے سے لے کر واپسی تک مسلح محافظوں کی نگرانی میں ہوں گی، سیاسی کشیدگی کے باعث پاکستان نے بھارت میں اپنے میچز کھیلنے سے انکار کیا تھا جس کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے پاکستان کے میچز غیر جانبدار مقام سری لنکا منتقل کر دیے۔

 بنگلہ دیش نے بھی سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر بھارت میں میچز نہ کھیلنے کی درخواست کی تھی تاہم آئی سی سی نے یہ درخواست مسترد کر دی۔ اس فیصلے پر ناراض بنگلہ دیش نے ٹورنامنٹ سے دستبرداری اختیار کر لی جس کے بعد اسکاٹ لینڈ کو متبادل ٹیم کے طور پر شامل کیا گیا۔

پاکستان نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش سے اظہار یکجہتی کے طور پر ایونٹ کے بائیکاٹ پر غور کر سکتا ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان اس تنازع پر سری لنکا نے محتاط خاموشی اختیار کیے رکھی۔

 سری لنکا کرکٹ کے سیکریٹری بندولا دسانائیکے کا کہنا ہے کہ کولمبو علاقائی تنازعات میں فریق نہیں بننا چاہتا، بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش تینوں سری لنکا کے دوست ممالک ہیں، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مستقبل میں اگر کسی بھی ملک نے کرکٹ ایونٹ کی میزبانی کے لیے سری لنکا سے رابطہ کیا تو اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔

ادھر اس ٹورنامنٹ کو سری لنکا نے اپنے کرکٹ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے موقع کے طور پر بھی استعمال کیا ہے، کولمبو کے سنہالیز اسپورٹس کلب اسٹیڈیم میں نئی فلڈ لائٹس نصب کی جا چکی ہیں ۔

آئی سی سی اور بنگلادیش کے درمیان یہ تنازع تقریباً تین ہفتے تک جاری رہا، تاہم انٹرنیشنل کرکٹ باڈی نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے اثر و رسوخ میں آ کر بنگلادیش کا مؤقف تسلیم کرنے سے انکار کیا اور بالآخر اسے ٹورنامنٹ سے خارج کر دیا۔

بنگلادیش کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے چار میچز کولکتہ میں شیڈول تھے مگر ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیوں اور فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالے جانے کے بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کی سیکیورٹی پر خدشات ظاہر کرتے ہوئے میچز سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس فیصلے کو کرکٹ حلقوں میں حیران کن قرار دیا جا رہا ہے جبکہ متعدد بھارتی صحافیوں نے بھی آئی سی سی اور بی سی سی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا، فیصلے کی وجہ بی سی سی آئی کی انا قرار دی جا رہی ہے۔ اسی دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ورلڈ کپ کے بائیکاٹ یا بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے پر غور کر سکتا ہے۔

معاملے پر سری لنکن کرکٹ بورڈ نے اب اپنا ردعمل دے دیا ہے۔ سری لنکا کے کرکٹ سیکرٹری بندولا ڈسا نائیکے نے غیر ملکی خبر ایجنسی کو بتایا کہ بھارت، بنگلادیش اور پاکستان کے تنازع پر سری لنکا نیوٹرل پالیسی اپناتا ہے کیونکہ تینوں ہمارے دوست ممالک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کہا گیا تو سری لنکا مستقبل میں بھی ٹورنامنٹس کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

سری لنکا کے وزیر کھیل سنیل کمار گمباگے نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح ٹورنامنٹ کا بہتر انعقاد ہے اور پاکستان اور بھارت کے میچ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ فروری میں شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کے تمام میچز سری لنکا میں شیڈول ہیں۔ ایونٹ کا آغاز 6 فروری جبکہ اختتام 8 مارچ کو ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سری لنکا نے پر سری لنکا سری لنکا کے پاکستان کے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ ورلڈ کپ دیا ہے کے بعد

پڑھیں:

قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا

پاکستان کی انڈر-18 ہاکی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مصر میں منعقد ہونے والے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کے لیے باقاعدہ کوالیفائی کرلیا ہے۔

اس شاندار کامیابی کے ساتھ ہی پاکستان ٹیم نے ٹورنامنٹ کے فائنل میں بھی جگہ بنالی ہے جہاں اس کا مقابلہ 25 تاریخ کو روایتی حریف بھارت سے ہوگا۔

قومی جونیئر ٹیم نے پورے ایونٹ کے دوران بہترین ڈسپلن، جارحانہ کھیل اور بہترین حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا۔

پورے ایونٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائنل تک رسائی اور ورلڈکپ کا ٹکٹ حاصل کرنا پاکستان ہاکی کے روشن مستقبل کا واضح ثبوت ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان انڈر-18 ہاکی ٹیم کی یہ کامیابی قوم کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں نے جس محنت اور جذبے کے ساتھ میدان میں گرین شرٹس کی نمائندگی کی ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ مصر ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی کرنا ہماری جونیئر ہاکی ڈیویلپمنٹ پالیسی کی بڑی کامیابی ہے۔

ترجمان پی ایچ ایف نے قوم سے اپیل ہے کہ 25 تاریخ کو بھارت کے خلاف فائنل معرکے کے لیے ٹیم کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی، ڈیویلپمنٹ کمیٹی، چیف سلیکٹر اور کوچنگ اسٹاف نے تمام کھلاڑیوں اور قوم کو اس اہم کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ٹیم فائنل بھی جیت کر ملک کا نام روشن کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی