Islam Times:
2026-07-24@05:28:13 GMT

مستضعفین کی فتح کا دن قریب

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

مستضعفین کی فتح کا دن قریب

اسلام ٹائمز: ایسے ماحول میں ذرا چشم تصور میں شام کا منظر لائیں کہ اگر شام میں بھی مقاومتی قوتیں پہلے کی طرح جمع ہوتیں تو اسرائیل کیساتھ امریکہ کا کیا حال کرتیں، اب تو جولانی کو ابو بنا دیا گیا ہے جس کے آنے کے بعد اسرائیل کو ہی فائدہ ہوا ہے اور کسی کو بشمول شام کے کسی بھی قسم کا فائدہ نظر نہیں آتا، ابھی شام میں ایک بار پھر منظم منصوبہ بندی سے جیلوں سے ہزاروں داعشیوں کو نکال کے انہیں ایران و عراق کے خلاف استعمال کرنے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ہمیشہ استعمال ہوتے آ رہے ہیں امریکہ و صیہونی انہیں کبھی روس کے خلاف لڑاتا ہے کبھی عراق کے خلاف، کبھی قذافی کے خلاف تو کبھی بشار الاسد کے خلاف، یہ ہمیشہ سے امریکی پراکسیز کا کردار نبھاتے چلے آ رہے ہیں۔ تحریر: ارشاد حسین ناصر

شیطان اور اس کا گروہ اپنا ہر حربہ، ہر شیطانی کھیل، ہر سازش، ہر دھوکہ، ہر طریقہ استعمال کر رہا ہے کہ کسی طرح بندگان خدا، خاصان خدا گھبرا جائیں اور اس کے دست شیطنیت پہ بیعت کر لیں، جیسے ماضی میں معمر قذافی نے کی اور اپنا سب کچھ امریکہ کے حوالے کر دیا اور عبرت کا نشاں بنا دیا گیا، جیسے صدام نے اپنا سب کچھ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور اس نے اسرائیل کے ذریعے اس کا ایٹمی پروگرام تباہ کروا دیا، ایسے ہی حربے، حیلے بہانے اور دھوکہ و فریب سے شام کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اس کا سب کچھ تباہ و برباد کر دیا گیا، ایک ایسے شخص کو شام پہ بٹھا دیا جس کا ماضی نام نہاد جہاد سے بتایا جاتا رہا، جس گروہ پہ گیارہ ستمبر کے حملوں کا الزام تھا، جو بہ ظاہر امریکہ و اسرائیل دشمن کے طور پہ پہچنوایا گیا اور درون خانہ سدھایا گیا اور پھر سامنے لایا گیا، شیطانی حیلے بہانوں کا ایک مظاہرہ ہم نے ایران پہ امریکہ شیطان کے بارہ روزہ جنگ کے دنوں میں دیکھا کہ ایک طرف مزاکرات کر رہا تھا اور کسی بھی حملے کا کسی بھی طرح جواز نہیں تھا مگر مزاکرات کے دوران ہی حملہ کر دیا، یہ شیطانی حربے اور حیلے و بہانے ہی ہیں کہ جن کے ذریعے اس نے وینزویلا کے صدر کو اس کے صدارتی محل سے بیوی سمیت اغواء کرکے امریکہ پہنچا دیا، امریکہ کی ایسے شیطانی کھیل اور سازشوں کی ایک طویل تاریخ ہے جس کیلئے کتابوں کی کئی جلدیں درکار ہیں۔

یہ ایک قابل نفرت تاریخ کا حامل ملک گنا جاتا ہے چونکہ اس کی وعدہ خلافیاں، دوستی کے نام پہ دھوکے، فریب اور درون خانہ اپنی بچھو جیسی فطرت کا مظاہرہ بہت عام بات ہے، یہ قابل نفرت اس وجہ سے بھی ہے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ ناقابل اعتبار ملک ہے، حالیہ دنوںمیں تو اس لیے بھی زیادہ ناقابل اعتبار ہے کہ ٹرمپ جیسا فریبی، دھوکہ باز، فراڈیا اس کا دوسری بار صدر ہے، جس کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ اسرائیل کو تحفظ دیا جائے اس کیلئے بے شک امریکہ کو بھی آگ و خون میں دھکیلنا پڑے تو نہیں گھبرانا، ٹرمپ اس وقت صیہونیوں کے خاص الخاص آلہ کار بنا ہوا ہے، اس کو انسانی حقوق، تہذیب، احترام اقوام بھول چکا ہے، جبکہ اس نزدیک اقوام متحدہ کی بھی کوئی حیثیت نہیں، ورنہ ایران پہ حملے کی دھمکیاں اور چڑھائی دنیا کے کسی بھی قانون، اخلاق، اصول اور ضابطے میں نہیں آتی۔ شیطان بزرگ اپنے سب سے بڑے لائو لشکر کے ہمراہ آج جب وہ ایران کی طرفٖ بڑھ چکا ہے اور دھکیاں و دھونس اور فریب کاریاں مسلسل دکھا رہا ہے تو ایسے میں ولی خدا کی رہبری میں، امام العصر عج کے خاص الخاص امام خامنہ ای کا ایک جملہ جو سوشل میڈیا پہ سامنے آیا ہے کہ ایران کیلئے شکست کا دروازہ بن کر دیا گیا ہے، اس کی گہرائی کو سمجھنے کی ضرورت ہے، رہبر معظم کا مسجد جمکران کا دورہ اور عبادت بھی کسی خاص جانب اشارہ ہے جس کو اہل معرفت ہی درک کر سکتے ہیں۔

فرعون کی طاقت، اختیار اور زمین پہ خدائی کا دعویٰ کسے بھولا ہے، آج بھی وقت کے فرعون نے وہی راستہ اپنایا ہے جو اس کے پیش رو نے اپنایا تھا اور خاصان خدا نے بھی الہیٰ حکمت، قرب الہیٰ، دور اندیشی، تدبر اور ایمان باللہ کے ذریعے ہی وقت کے فرعون کو اس کے ناپاک ارادوں میں ناکام کرنے کا پروگرام بنا رکھا ہے، جو لوگ ظاہری طاقت اور اسلحہ، دیگر تعاون کرنے والے ممالک اور ہمنواؤں و کاسہ لیسوں کی باتوں پہ یقین کرتے ہیں انہیں معرفت ہی نہیں، انہیں قرآن کا سبق بھول چکا ہے، وہ جمہوری اسلامی کی چھیالیس سال کی تاریخ سے نابلد ہیں کہ یہاں ابرہہ کے لشکر کیساتھ طبس میں جو کچھ ہو چکا ہے وہ ایک یادگار ہے، وہ ایک عبرت ہے، ایسی بہت سی عبرتیں جمہوری اسلامی ایران میں موجود ہیں، اہل ایران کی یہ ایک بہت اچھی بات ہے کہ یہ ایسے تاریخی واقعات کو زندہ رکھتے ہیں اور ان کو ثقافتی و انقلابی نمائش گاہوں میں پورتریٹ کرتے ہیں تاکہ ہر ایک کو یاد رہے۔

گذشتہ برس کی بارہ روزہ جنگ میں سب کو یاد ہے کہ فقط جمہوری اسلامی ایران ہی برسر پیکار تھا، جس کا زیادہ تو جواب مختلف میزائیل تھے یا پھر ڈرونز کی یلغار تھی، اس سے وابستہ مقاومتی گروہ، شکصیات اور تنظیمات عملی طور پہ شامل نہیں تھیں، چونکہ ایران اپنے حمایتیوں و ہم فکر مزاحمتی قوتوں جنہیں وہ برمل اسپورٹ کرتا ہے، انکی مدد کرتا ہے کو جنگ میں نہیں لایا تھا، مگر اب کی بار منظر بدلا ہوا ہے، عراق میں نوری المالکی جو مزاحمتی قوتوں کے امیدوار تھے وزیر اعظم منتخب ہو چکے ہیں اور ٹرمپ نے عراق کو دھمکیاں بھی دی ہیں، جبکہ مقاومت عراق اس وقت مکمل تیاری میں دیکھی جا سکتی ہے، وہ اہل عراق جن کو ان کے برادر و مددگار ایران سے دور رکھنے کی پوری کوشش و سازش کی جاتی رہی ہے سے اچھی خبریں تصاویر و ویڈیوز آ رہی ہیں، ایران و رہبر کے حق میں بہت بڑی تعداد میں مظاہرے، احتجاج کیساتھ ساتھ ایک اور منظر یہ دیکھنے کو ملا ہے کہ عراقی عوام بالخصوص یوتھ بہت بڑی تعداد میں خود کو بطور شہادت مشن رجسٹرڈ کروا رہے ہیں، یعنی باقاعدہ طور پہ رجسٹریشن مراکز و دفاتر کھل گئے ہیں کہ اگر ایران پہ حملہ ہوتا ہے، رہبر معظم انقلاب کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہوتی ہے تو عراقی جوان شہادت مشن سے اسرائیل و امریکہ کو اجاڑ دیں گے۔

اسی طرح جب سے لبنان نے جنگ بندی کی ہے اس وقت سے اسرائیل مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کیساتھ مسلسل لبنانی مقاومت کے بہت سے فوجی مراکز، کمانڈرز، شخصیات اور مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے مگر مقاومت اس کو ویسا جواب نہیں دے رہی جسکا مطلب ہے کہ کسی بڑے ہدف و معرکے کیلئے خود کو محفوظ اور قوی کرنے کا عمل جاری ہے، آج کی صورتحال میں کچھ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ اگر اب کی بار ایران پہ حملہ ہوا تو مقاومت لبنان بھی میدان سجائے گی اور اس تاثر کو بھی زائل کر دے گی کہ اس کی قیادت کی شہادت اور پے در پے جانی نقصانات کے بعد بھی اسرائیل کیلئے خوف و دہشت کا ساماں موجود ہے جو صیہونی ماؤں کو نیند سے محروم کر سکتا ہے، ایسا ہی حماس نے بھی کیا تھا کہ جس کو ختم کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں وہ اپنی پوری قوت کیساتھ موجود ہے اور دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، ایسی ہی خبریں یمن سے بھی ہیں جن کی تاریخ ہی مزاحمت سے عبارت ہے اور جنہوں نے باب المندب کو اسرائیلی بحری جہازوں کا قبرستان بنادیا تھا، آج اپے تمام تر وسائیل کیساتھ جمہوری اسلامی کا توانا بازو بن کے سامنے ڈٹا دیکھا جا سکتا ہے۔

ایسے ماحول میں ذرا چشم تصور میں شام کا منظر لائیں کہ اگر شام میں بھی مقاومتی قوتیں پہلے کی طرح جمع ہوتیں تو اسرائیل کیساتھ امریکہ کا کیا حال کرتیں، اب تو جولانی کو ابو بنا دیا گیا ہے جس کے آنے کے بعد اسرائیل کو ہی فائدہ ہوا ہے اور کسی کو بشمول شام کے کسی بھی قسم کا فائدہ نظر نہیں آتا، ابھی شام میں ایک بار پھر منظم منصوبہ بندی سے جیلوں سے ہزاروں داعشیوں کو نکال کے انہیں ایران و عراق کے خلاف استعمال کرنے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ہمیشہ استعمال ہوتے آ رہے ہیں امریکہ و صیہونی انہیں کبھی روس کے خلاف لڑاتا ہے کبھی عراق کے خلاف، کبھی قذافی کے خلاف تو کبھی بشار الاسد کے خلاف، یہ ہمیشہ سے امریکی پراکسیز کا کردار نبھاتے چلے آ رہے ہیں جن کا کام بس امت کے خلاف استعمال ہو کے پیٹھ میں چھرا گھونپنا ہی دکھتا ہے۔ میرے ذاتی خیال میں اب کے معرکہ ہوا تو اس سے بہت نتیجے سامنے آئیں گے ایسے نتیجے جس میں اللہ کی حکمت اور راز ہیں، جن کا وعدہ کیا گیا ہے، ہم شعبان کے مہینے میں ہیں یوم مستضعفین قریب ہے، یعنی مستکبرین پہ مستضعفین کی فتح کا دن، جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جمہوری اسلامی عراق کے خلاف ایران پہ دیا گیا کرنے کا کسی بھی رہے ہیں چکا ہے کر دیا ہیں کہ ہوا ہے کہ اگر گیا ہے اور اس ہے اور نہیں ا

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران