مستضعفین کی فتح کا دن قریب
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: ایسے ماحول میں ذرا چشم تصور میں شام کا منظر لائیں کہ اگر شام میں بھی مقاومتی قوتیں پہلے کی طرح جمع ہوتیں تو اسرائیل کیساتھ امریکہ کا کیا حال کرتیں، اب تو جولانی کو ابو بنا دیا گیا ہے جس کے آنے کے بعد اسرائیل کو ہی فائدہ ہوا ہے اور کسی کو بشمول شام کے کسی بھی قسم کا فائدہ نظر نہیں آتا، ابھی شام میں ایک بار پھر منظم منصوبہ بندی سے جیلوں سے ہزاروں داعشیوں کو نکال کے انہیں ایران و عراق کے خلاف استعمال کرنے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ہمیشہ استعمال ہوتے آ رہے ہیں امریکہ و صیہونی انہیں کبھی روس کے خلاف لڑاتا ہے کبھی عراق کے خلاف، کبھی قذافی کے خلاف تو کبھی بشار الاسد کے خلاف، یہ ہمیشہ سے امریکی پراکسیز کا کردار نبھاتے چلے آ رہے ہیں۔ تحریر: ارشاد حسین ناصر
شیطان اور اس کا گروہ اپنا ہر حربہ، ہر شیطانی کھیل، ہر سازش، ہر دھوکہ، ہر طریقہ استعمال کر رہا ہے کہ کسی طرح بندگان خدا، خاصان خدا گھبرا جائیں اور اس کے دست شیطنیت پہ بیعت کر لیں، جیسے ماضی میں معمر قذافی نے کی اور اپنا سب کچھ امریکہ کے حوالے کر دیا اور عبرت کا نشاں بنا دیا گیا، جیسے صدام نے اپنا سب کچھ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور اس نے اسرائیل کے ذریعے اس کا ایٹمی پروگرام تباہ کروا دیا، ایسے ہی حربے، حیلے بہانے اور دھوکہ و فریب سے شام کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اس کا سب کچھ تباہ و برباد کر دیا گیا، ایک ایسے شخص کو شام پہ بٹھا دیا جس کا ماضی نام نہاد جہاد سے بتایا جاتا رہا، جس گروہ پہ گیارہ ستمبر کے حملوں کا الزام تھا، جو بہ ظاہر امریکہ و اسرائیل دشمن کے طور پہ پہچنوایا گیا اور درون خانہ سدھایا گیا اور پھر سامنے لایا گیا، شیطانی حیلے بہانوں کا ایک مظاہرہ ہم نے ایران پہ امریکہ شیطان کے بارہ روزہ جنگ کے دنوں میں دیکھا کہ ایک طرف مزاکرات کر رہا تھا اور کسی بھی حملے کا کسی بھی طرح جواز نہیں تھا مگر مزاکرات کے دوران ہی حملہ کر دیا، یہ شیطانی حربے اور حیلے و بہانے ہی ہیں کہ جن کے ذریعے اس نے وینزویلا کے صدر کو اس کے صدارتی محل سے بیوی سمیت اغواء کرکے امریکہ پہنچا دیا، امریکہ کی ایسے شیطانی کھیل اور سازشوں کی ایک طویل تاریخ ہے جس کیلئے کتابوں کی کئی جلدیں درکار ہیں۔
یہ ایک قابل نفرت تاریخ کا حامل ملک گنا جاتا ہے چونکہ اس کی وعدہ خلافیاں، دوستی کے نام پہ دھوکے، فریب اور درون خانہ اپنی بچھو جیسی فطرت کا مظاہرہ بہت عام بات ہے، یہ قابل نفرت اس وجہ سے بھی ہے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ ناقابل اعتبار ملک ہے، حالیہ دنوںمیں تو اس لیے بھی زیادہ ناقابل اعتبار ہے کہ ٹرمپ جیسا فریبی، دھوکہ باز، فراڈیا اس کا دوسری بار صدر ہے، جس کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ اسرائیل کو تحفظ دیا جائے اس کیلئے بے شک امریکہ کو بھی آگ و خون میں دھکیلنا پڑے تو نہیں گھبرانا، ٹرمپ اس وقت صیہونیوں کے خاص الخاص آلہ کار بنا ہوا ہے، اس کو انسانی حقوق، تہذیب، احترام اقوام بھول چکا ہے، جبکہ اس نزدیک اقوام متحدہ کی بھی کوئی حیثیت نہیں، ورنہ ایران پہ حملے کی دھمکیاں اور چڑھائی دنیا کے کسی بھی قانون، اخلاق، اصول اور ضابطے میں نہیں آتی۔ شیطان بزرگ اپنے سب سے بڑے لائو لشکر کے ہمراہ آج جب وہ ایران کی طرفٖ بڑھ چکا ہے اور دھکیاں و دھونس اور فریب کاریاں مسلسل دکھا رہا ہے تو ایسے میں ولی خدا کی رہبری میں، امام العصر عج کے خاص الخاص امام خامنہ ای کا ایک جملہ جو سوشل میڈیا پہ سامنے آیا ہے کہ ایران کیلئے شکست کا دروازہ بن کر دیا گیا ہے، اس کی گہرائی کو سمجھنے کی ضرورت ہے، رہبر معظم کا مسجد جمکران کا دورہ اور عبادت بھی کسی خاص جانب اشارہ ہے جس کو اہل معرفت ہی درک کر سکتے ہیں۔
فرعون کی طاقت، اختیار اور زمین پہ خدائی کا دعویٰ کسے بھولا ہے، آج بھی وقت کے فرعون نے وہی راستہ اپنایا ہے جو اس کے پیش رو نے اپنایا تھا اور خاصان خدا نے بھی الہیٰ حکمت، قرب الہیٰ، دور اندیشی، تدبر اور ایمان باللہ کے ذریعے ہی وقت کے فرعون کو اس کے ناپاک ارادوں میں ناکام کرنے کا پروگرام بنا رکھا ہے، جو لوگ ظاہری طاقت اور اسلحہ، دیگر تعاون کرنے والے ممالک اور ہمنواؤں و کاسہ لیسوں کی باتوں پہ یقین کرتے ہیں انہیں معرفت ہی نہیں، انہیں قرآن کا سبق بھول چکا ہے، وہ جمہوری اسلامی کی چھیالیس سال کی تاریخ سے نابلد ہیں کہ یہاں ابرہہ کے لشکر کیساتھ طبس میں جو کچھ ہو چکا ہے وہ ایک یادگار ہے، وہ ایک عبرت ہے، ایسی بہت سی عبرتیں جمہوری اسلامی ایران میں موجود ہیں، اہل ایران کی یہ ایک بہت اچھی بات ہے کہ یہ ایسے تاریخی واقعات کو زندہ رکھتے ہیں اور ان کو ثقافتی و انقلابی نمائش گاہوں میں پورتریٹ کرتے ہیں تاکہ ہر ایک کو یاد رہے۔
گذشتہ برس کی بارہ روزہ جنگ میں سب کو یاد ہے کہ فقط جمہوری اسلامی ایران ہی برسر پیکار تھا، جس کا زیادہ تو جواب مختلف میزائیل تھے یا پھر ڈرونز کی یلغار تھی، اس سے وابستہ مقاومتی گروہ، شکصیات اور تنظیمات عملی طور پہ شامل نہیں تھیں، چونکہ ایران اپنے حمایتیوں و ہم فکر مزاحمتی قوتوں جنہیں وہ برمل اسپورٹ کرتا ہے، انکی مدد کرتا ہے کو جنگ میں نہیں لایا تھا، مگر اب کی بار منظر بدلا ہوا ہے، عراق میں نوری المالکی جو مزاحمتی قوتوں کے امیدوار تھے وزیر اعظم منتخب ہو چکے ہیں اور ٹرمپ نے عراق کو دھمکیاں بھی دی ہیں، جبکہ مقاومت عراق اس وقت مکمل تیاری میں دیکھی جا سکتی ہے، وہ اہل عراق جن کو ان کے برادر و مددگار ایران سے دور رکھنے کی پوری کوشش و سازش کی جاتی رہی ہے سے اچھی خبریں تصاویر و ویڈیوز آ رہی ہیں، ایران و رہبر کے حق میں بہت بڑی تعداد میں مظاہرے، احتجاج کیساتھ ساتھ ایک اور منظر یہ دیکھنے کو ملا ہے کہ عراقی عوام بالخصوص یوتھ بہت بڑی تعداد میں خود کو بطور شہادت مشن رجسٹرڈ کروا رہے ہیں، یعنی باقاعدہ طور پہ رجسٹریشن مراکز و دفاتر کھل گئے ہیں کہ اگر ایران پہ حملہ ہوتا ہے، رہبر معظم انقلاب کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہوتی ہے تو عراقی جوان شہادت مشن سے اسرائیل و امریکہ کو اجاڑ دیں گے۔
اسی طرح جب سے لبنان نے جنگ بندی کی ہے اس وقت سے اسرائیل مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کیساتھ مسلسل لبنانی مقاومت کے بہت سے فوجی مراکز، کمانڈرز، شخصیات اور مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے مگر مقاومت اس کو ویسا جواب نہیں دے رہی جسکا مطلب ہے کہ کسی بڑے ہدف و معرکے کیلئے خود کو محفوظ اور قوی کرنے کا عمل جاری ہے، آج کی صورتحال میں کچھ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ اگر اب کی بار ایران پہ حملہ ہوا تو مقاومت لبنان بھی میدان سجائے گی اور اس تاثر کو بھی زائل کر دے گی کہ اس کی قیادت کی شہادت اور پے در پے جانی نقصانات کے بعد بھی اسرائیل کیلئے خوف و دہشت کا ساماں موجود ہے جو صیہونی ماؤں کو نیند سے محروم کر سکتا ہے، ایسا ہی حماس نے بھی کیا تھا کہ جس کو ختم کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں وہ اپنی پوری قوت کیساتھ موجود ہے اور دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، ایسی ہی خبریں یمن سے بھی ہیں جن کی تاریخ ہی مزاحمت سے عبارت ہے اور جنہوں نے باب المندب کو اسرائیلی بحری جہازوں کا قبرستان بنادیا تھا، آج اپے تمام تر وسائیل کیساتھ جمہوری اسلامی کا توانا بازو بن کے سامنے ڈٹا دیکھا جا سکتا ہے۔
ایسے ماحول میں ذرا چشم تصور میں شام کا منظر لائیں کہ اگر شام میں بھی مقاومتی قوتیں پہلے کی طرح جمع ہوتیں تو اسرائیل کیساتھ امریکہ کا کیا حال کرتیں، اب تو جولانی کو ابو بنا دیا گیا ہے جس کے آنے کے بعد اسرائیل کو ہی فائدہ ہوا ہے اور کسی کو بشمول شام کے کسی بھی قسم کا فائدہ نظر نہیں آتا، ابھی شام میں ایک بار پھر منظم منصوبہ بندی سے جیلوں سے ہزاروں داعشیوں کو نکال کے انہیں ایران و عراق کے خلاف استعمال کرنے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ہمیشہ استعمال ہوتے آ رہے ہیں امریکہ و صیہونی انہیں کبھی روس کے خلاف لڑاتا ہے کبھی عراق کے خلاف، کبھی قذافی کے خلاف تو کبھی بشار الاسد کے خلاف، یہ ہمیشہ سے امریکی پراکسیز کا کردار نبھاتے چلے آ رہے ہیں جن کا کام بس امت کے خلاف استعمال ہو کے پیٹھ میں چھرا گھونپنا ہی دکھتا ہے۔ میرے ذاتی خیال میں اب کے معرکہ ہوا تو اس سے بہت نتیجے سامنے آئیں گے ایسے نتیجے جس میں اللہ کی حکمت اور راز ہیں، جن کا وعدہ کیا گیا ہے، ہم شعبان کے مہینے میں ہیں یوم مستضعفین قریب ہے، یعنی مستکبرین پہ مستضعفین کی فتح کا دن، جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جمہوری اسلامی عراق کے خلاف ایران پہ دیا گیا کرنے کا کسی بھی رہے ہیں چکا ہے کر دیا ہیں کہ ہوا ہے کہ اگر گیا ہے اور اس ہے اور نہیں ا
پڑھیں:
کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
کراچی:شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔
ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔