پی سی بی فیوچر اسٹارز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کا آغاز 11 فروری سے ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
لاہور:
پی سی بی فیوچر اسٹارز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کا آغاز 11 فروری سے ہوگا۔
ملک بھر کے نوجوان کھلاڑیوں کی سلیکشن کیلئے 11 فروری سے یکم مئی تک ملک کے مختلف شہروں میں اوپن ٹرائلز ہوں گے، عاقب جاوید، مصباح الحق اور عبدالرزاق سمیت ریجنل کوچز پر مشتمل سلیکشن پینل اوپن ٹرائلز لے گا۔
کراچی، لاہور، ملتان، فیصل آباد، پشاور، کوئٹہ سمیت 15 شہروں میں اوپن ٹرائلز کے ذریعے 350 کے قریب ٹیلنٹڈ کھلاڑیوں کو منتخب کیا جائے گا، ہر ریجن سے زیادہ سے زیادہ 24 بہترین کھلاڑی شارٹ لسٹ ہوں گے، منتخب کھلاڑیوں کو چار ہفتوں کی خصوصی ٹریننگ دی جائے گی۔
ٹرائلز کے دن بہترین بیٹسمین، فاسٹ بولر اور اسپنر کو کیش انعام بھی ملے گا، منتخب کھلاڑیوں میں سے بہترین کھلاڑیوں کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی کیمپس میں بھی بلایا جائے گا۔
کھلاڑیوں کو سال بھر پی سی بی ریجنل اکیڈمیز میں اسکل ڈیولپمنٹ بھی کروائی جائے گی، منتخب کھلاڑیوں کو مستقبل میں ڈومیسٹک کرکٹ اور پی ایس ایل میں سلیکشن کا موقع مل سکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کھلاڑیوں کو
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔