رمضان نگہبان پیکج کے تحت خصوصی بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں مقرر
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
رمضان نگہبان پیکج کے تحت خصوصی بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں مقرر WhatsAppFacebookTwitter 0 30 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)رمضان نگہبان پیکج کے تحت خصوصی بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں مقرر کردی گئیں۔محکمہ فوڈسیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن میں رمضان نگہبان پیکج کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا
معاون خصوصی برائے فوڈسیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن سلمی بٹ نے اجلاس کی صدارت کی۔رمضان کے دوران ماڈل،سہولت اور رمضان بازاروں میں 10کلو آٹا تھیلا850 میں دستیاب ہوگا، خصوصی برائے فوڈسیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن سلمی بٹ نے کہا کہ ہرفلور مل اپنے ڈسٹرکٹ میں3سیل پوائنٹ قائم کریگی جہاں سبسڈائز آٹا میسر ہوگا۔ خصوصی بازاروں میں چکن 15روپے کلو اور انڈے10روپے درجن سستے ہوںگے۔
رمضان کے دوران پنجاب کی152تحصیلوں میں1216 مریم کا دسترخوان قائم کیے جائیں گے، دسترخوان میں 250 افراد کو پورا رمضان کھانا فراہم کیا جائے گا۔سلمی بٹ نے کہا کہ رمضان المبارک سے قبل15فروری سے پنجاب کے تمام رمضان ماڈل اور سہولت بازار فنکشنل ہوجائیں گے، رمضان بازار صبح9بجے سے شام 5 بجے تک کھلے رہیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراوورسیز پاکستانی اور او پی ایف: ایک خاموش المیہ اسلام آباد میں شہریوں کی جان کے تحفظ کیلئے تمام کھلے گٹروں پر معیاری ڈھکن لگانے کا فیصلہ سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ کی امریکا کے معروف تھنک ٹینک ممبران سے ملاقات روس یوکرین جنگ: دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ فوجی ہلاکتیں، جانی نقصان 20 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ سونا سستا ہوگیا؛ عالمی اور مقامی قیمتوں میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ فیصل آباد: جاپان کے تعاون سے واٹر فلٹریشن پلانٹس کا افتتاح، 400 سے زائد گھرانے مستفید چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات نہ ہونے پر پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: رمضان نگہبان پیکج کے
پڑھیں:
ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔
ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟
یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔
چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔
آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔
’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔
ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔
بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔
قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔
سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔
50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹرچند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔
یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیےایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔
عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟
مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘
ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل