فیملی ٹری میں غیر ملکی کو کیسے شامل کیا؟ عدالت کا نادرا کو دستاویزات کا جائزہ لینے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے نادرا کی جانب سے فیملی ٹری میں غیر متعلقہ شخص کو شامل کرنے کے خلاف درخواست پر حکام کو 10 روز میں پوری فیملی قانونی دستاویزات کا جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔
جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ کے روبرو نادرا کی جانب سے فیملی ٹری میں غیر متعلقہ شخص کو شامل کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف دیا کہ نادرا حکام رشوت لے کر افغان شہریوں کو پاکستانیوں کی فیملی ٹری میں شامل کر دیتے ہیں۔ 40 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان میں ہیں تو 20 لاکھ نے پاکستانی شناختی کارڈ بنوا رکھے ہیں۔ افغان شہری پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر دنیا بھر میں گھوم رہے ہیں۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ افغان شہری نقیب اللہ کو درخواست گزار کی فیملی ٹری میں شامل کرلیا گیا۔ اب درخواست گزار محمد اکرم کی پوری فیملی کے قومی شناختی کارڈ بلاک کر دیے ہیں۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو پاکستانی ہیں ان کے شناختی کارڈز کیوں بلاک کر دیے ہیں؟ ایک نقیب اللہ کی وجہ سے پوری فیملی کو کیوں پھنسایا گیا ہے؟
جسٹس ذوالففار علی سانگی نے ریمارکس میں کہا کہ پیسے لے کر ہر فیملی میں نجانے کتنے بندے شامل کر دیے ہوں گے؟
نادرا کے وکیل نے موقف دیا کہ درخواست گزار کے والد کے بائیو میٹرک کے بعد نقیب اللہ کو ان کی فیملی ٹری میں شامل کیا گیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ نادرا کسی کا بائیو میٹرک کسی اور جگہ استعمال کر دیتا ہے، درخواست گزار نے بائیو میٹرک نہیں دیا۔
عدالت نے نادرا حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ افغان شہری کو پاکستانی خاندان کی فیملی ٹری میں کیسے شامل کر دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی غیر متعلقہ شخص درخواست گزار کی فیملی کی فیملی ٹری میں شامل ہے تو نام خارج کیا جائے۔
جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس میں کہا کہ پاکستانی شہریوں کی فیملی ٹری میں غیر ملکی کو کیسے شامل کر لیا گیا؟ عدالت نے نادرا کو 10 روز میں پوری فیملی کے قانونی دستاویزات کا جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کی فیملی ٹری میں فیملی ٹری میں غیر درخواست گزار پوری فیملی کہا کہ
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔