Jasarat News:
2026-06-02@22:29:59 GMT

ایران کے قریب امریکی فوجی اثاثوں میں نمایاں اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

ایران کے قریب امریکی فوجی اثاثوں میں نمایاں اضافہ

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن:امریکا نے حالیہ دنوں میں ایران کے قریب اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک ایران کے خلاف کسی براہِ راست فوجی کارروائی کی منظوری نہیں دی، یہ اقدامات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیے گئے ہیں لیکن ٹرمپ بدستور سفارتی حل کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اثاثوں میں اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ٹرمپ نے ایران کی جانب ایک بڑا بحری بیڑا بھیجنے کی بات کی۔ اس بحری بیڑے کی قیادت طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کر رہا ہے، جس کے ہمراہ ٹوما ہاک کروز میزائلوں سے لیس تین جدید جنگی جہاز بھی شامل ہیں۔

امریکی بحریہ کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن پیر کے روز مغربی بحرِ ہند میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے دائرہ اختیار میں داخل ہوا، جس کے بعد اسے بحیرہ عرب میں تعینات کر دیا گیا۔ پروازوں کی نگرانی سے متعلق دستیاب اعداد و شمار بھی اس تعیناتی کی تصدیق کرتے ہیں، اس طیارہ بردار جہاز پر موجود ایک طیارہ رواں ہفتے کے دوران بحیرہ عرب اور عمان کے درمیان متعدد بار پرواز کرتا رہا۔

فوجی ماہرین کے مطابق جس مقام پر یو ایس ایس ابراہم لنکن تعینات ہے، وہاں سے اس پر موجود جدید ایف-35 اور ایف/اے-18 لڑاکا طیارے ایران کے اندر درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بشرطیکہ صدر ٹرمپ کارروائی کا حکم دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ کم از کم ایک درجن ایف-15 ای لڑاکا طیارے بھی خطے میں منتقل کیے گئے ہیں تاکہ زمینی فضائی اڈوں سے ممکنہ حملوں کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔

سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایف-15 ای طیارے اردن کے ایک فضائی اڈے پر تعینات ہیں، جہاں وہ جون 2025 میں ہونے والے ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کے دوران بھی موجود تھے۔ پروازوں کی نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا اضافی فضائی اثاثے، جن میں جدید جنگی طیارے اور فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے شامل ہیں، خطے کے قریب یا براہِ راست خطے کے اندر منتقل کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ پینٹاگون نے خطے میں موجود امریکی فوجیوں کے تحفظ کے لیے مزید پیٹریاٹ اور تھاد فضائی دفاعی نظام بھی روانہ کیے ہیں۔ یہ نظام ایران کی جانب سے ممکنہ مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل حملوں کے خلاف دفاع کے لیے تعینات کیے جا رہے ہیں۔ اس وقت مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں تقریباً 30 ہزار سے 40 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک پینٹاگون کی جانب سے پیش کیے گئے مختلف فوجی آپشنز میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کیا اور نہ ہی کسی براہِ راست کارروائی کی منظوری دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور مسئلے کے سفارتی حل کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکا میں موجود طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیاروں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ یہ بمبار طیارے ایران کے اندر گہرائی میں واقع اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ہر ممکن آپشن کے لیے خود کو تیار رکھے ہوئے ہے، اگرچہ حتمی فیصلہ اب بھی وائٹ ہاؤس کے پاس ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکی فوجی ایران کے کے مطابق

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان