Jasarat News:
2026-07-24@15:26:35 GMT

ایران کے قریب امریکی فوجی اثاثوں میں نمایاں اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

ایران کے قریب امریکی فوجی اثاثوں میں نمایاں اضافہ

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن:امریکا نے حالیہ دنوں میں ایران کے قریب اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک ایران کے خلاف کسی براہِ راست فوجی کارروائی کی منظوری نہیں دی، یہ اقدامات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیے گئے ہیں لیکن ٹرمپ بدستور سفارتی حل کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اثاثوں میں اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ٹرمپ نے ایران کی جانب ایک بڑا بحری بیڑا بھیجنے کی بات کی۔ اس بحری بیڑے کی قیادت طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کر رہا ہے، جس کے ہمراہ ٹوما ہاک کروز میزائلوں سے لیس تین جدید جنگی جہاز بھی شامل ہیں۔

امریکی بحریہ کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن پیر کے روز مغربی بحرِ ہند میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے دائرہ اختیار میں داخل ہوا، جس کے بعد اسے بحیرہ عرب میں تعینات کر دیا گیا۔ پروازوں کی نگرانی سے متعلق دستیاب اعداد و شمار بھی اس تعیناتی کی تصدیق کرتے ہیں، اس طیارہ بردار جہاز پر موجود ایک طیارہ رواں ہفتے کے دوران بحیرہ عرب اور عمان کے درمیان متعدد بار پرواز کرتا رہا۔

فوجی ماہرین کے مطابق جس مقام پر یو ایس ایس ابراہم لنکن تعینات ہے، وہاں سے اس پر موجود جدید ایف-35 اور ایف/اے-18 لڑاکا طیارے ایران کے اندر درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بشرطیکہ صدر ٹرمپ کارروائی کا حکم دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ کم از کم ایک درجن ایف-15 ای لڑاکا طیارے بھی خطے میں منتقل کیے گئے ہیں تاکہ زمینی فضائی اڈوں سے ممکنہ حملوں کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔

سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایف-15 ای طیارے اردن کے ایک فضائی اڈے پر تعینات ہیں، جہاں وہ جون 2025 میں ہونے والے ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کے دوران بھی موجود تھے۔ پروازوں کی نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا اضافی فضائی اثاثے، جن میں جدید جنگی طیارے اور فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے شامل ہیں، خطے کے قریب یا براہِ راست خطے کے اندر منتقل کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ پینٹاگون نے خطے میں موجود امریکی فوجیوں کے تحفظ کے لیے مزید پیٹریاٹ اور تھاد فضائی دفاعی نظام بھی روانہ کیے ہیں۔ یہ نظام ایران کی جانب سے ممکنہ مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل حملوں کے خلاف دفاع کے لیے تعینات کیے جا رہے ہیں۔ اس وقت مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں تقریباً 30 ہزار سے 40 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک پینٹاگون کی جانب سے پیش کیے گئے مختلف فوجی آپشنز میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کیا اور نہ ہی کسی براہِ راست کارروائی کی منظوری دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور مسئلے کے سفارتی حل کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکا میں موجود طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیاروں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ یہ بمبار طیارے ایران کے اندر گہرائی میں واقع اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ہر ممکن آپشن کے لیے خود کو تیار رکھے ہوئے ہے، اگرچہ حتمی فیصلہ اب بھی وائٹ ہاؤس کے پاس ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکی فوجی ایران کے کے مطابق

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • ایران کے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، طیارہ گرانے کا دعویٰ
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی