مہمند: گاڑی کھائی میں گرنے سے 6 افراد جاں بحق، ایک زخمی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
پشاور:
لوئر مہمند کی تحصیل امبار سے یکہ غنڈ جانے والی فیلڈر موٹر کار کڑپہ ڈھنڈ کے مقام پر گہری کھائی میں جا گری جس کے سبب چھ افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق جمعہ کے روز گاڑی مہمند پشاور شاہراہ پر کڑپہ ڈھنڈ کے مقام پر خطرناک موڑ کاٹتے ہوئے گہری کھائی میں گری۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق تین افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے، ریسکیو ٹیم نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد تشویش ناک حالت میں مقامی اسپتال منتقل کیا جن میں سے تین افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دم توڑ گئے۔
جاں بحق افراد کو ضروری کارروائی کے لیے ہیڈ کوارٹر اسپتال غلنئی منتقل کیا گیا۔ المناک حادثے میں جاں بحق افراد میں وزیر خان ولد کریم اللّٰہ، زردول ولد یار خان، ظاہر گل ولد مومین خان، میر عالم، غلام سعید ولد بخت محمد اور نور البشر ولد جان خان سکنہ کمانگرہ شامل ہیں۔
ایک زخمی گل بادشاہ ولد مہران گل سکنہ کمانگرہ اسپتال میں زیر علاج ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔