لاہور بھاٹی گیٹ واقعہ: مزید 2 ملزمان گرفتار، تعداد 5 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
لاہور میں بھاٹی گیٹ کے قریب ماں بیٹی کے سیوریج لائن میں گرکر جاں بحق ہونے کے معاملے پر مزید دو ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے کہا کہ ان دو کی گرفتاری کے بعد اب تک 5 ملزمان گرفتار ہوچکےہیں۔
ڈی آئی جی سید ذیشان رضا کا کہنا ہے کہ لواحقین کو مکمل انصاف فراہم کیا جائےگا۔
بھاٹی گیٹ لاہور میں ماں بیٹی کے سیوریج لائن میں گرنے کے معاملے میں مقدمے کے مدعی خاتون کے والد ساجد حسین سے سادہ کاغذ پر دستخط اور انگوٹھے لگوانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ذمہ داران کے خلاف کارروائی تیز اور میرٹ پر کرنے کا حکم دیا ہے۔
سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ماں بیٹی کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ نماز جنازہ میں اہل خانہ، سیاسی و سماجی شخصیات اور اہل علاقہ نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔