اسلام آباد:

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف کو آئین توڑنے کا ذمہ دار قرار دیا اور اعلان کیا کہ کل یا پرسوں ملک کے طول و عرض جلوس ہوں گے۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پولیٹیکل کمیٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان و قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی نے بیان میں کہا کہ 8 فروری کو ہم نے یوم سیاہ کا اعلان کیا ہوا ہے، جو لوگ ملک میں آئین کی حکمرانی چاہتے ہیں ان سے گزارش ہے باہر نکلیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ادارے اور ہماری افواج دنیا کی افواج کی طرح آئین کے دائرے میں رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، یہ ہمارے پلان کو ڈائیورٹ کرنے کے لیے کر رہے ہیں، عمران خان عام شخصیت نہیں ہیں اس وقت وہ سرکار کی پراپرٹی ہیں، انہیں کچھ ہوا تو ذمہ دار پاکستان کی تمام سرکار ملٹری اور سول ہو گی۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت اتنی خراب نہیں جتنا پراپپیگنڈا کیا جا رہا ہے، اصل میں ہمیں ہمارے مقصد سے ہٹایا جا رہا ہے، دکان دار ایک دن کے لیے ہمارے ساتھ تعاون کریں اور 8 فروری کو دکانیں اور کاروبار بند کریں، ٹرانسپورٹ تنظیمیں بھی ہمارا ساتھ دیں۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی بہترین اسٹریٹ موومنٹ چلا رہے ہیں، تحریک انصاف کے کارکنان کی توجہ اس طرف کم ہے۔

سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کہا کہ کل یا پرسوں ملک کے طول و عرض میں مشعل بردار جلوس ہوں گے، ہم نے نہ کسی کو مارنا ہے اور نہ گالی دینی ہے، ہم آزاد الیکشن کمیشن اور عام انتخابات چاہتے ہیں، جو پارٹی جیتے اقتدار سنبھالے اور دوسری پارٹیاں ایک دوسرے کو معاف کریں۔

انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کی تشکیل نو کریں، 8 فروری کے بعد اس ابتدا کو انتہا تک لے جائیں گے۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے دشمنی نہیں لیکن ان سے بھی کہتے ہیں کہ آئین کو آپ نے توڑا ہے، عدالتوں کے پر کاٹے، پیکا آرڈینس لا کر اقدامات کیے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئیں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مشعل بردار جلوس نکالیں، ہمارا سلوگن ہے، ہم ظلم مٹانے نکلیں ہیں آو ہمارے ساتھ چلو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی اچکزئی نے نے کہا کہ

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن