ایمان مزاری کیس , ایران و دیگر ممالک سے متعلق پیراگراف حذف کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260131-08-20
اسلام آباد(نمائندہ جسارت)انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ کی عدالت نے معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کیس کے فیصلے میں ایران اور دیگر ممالک سے متعلق پیراگراف استغاثہ کی درخواست پر حذف کرنے کا حکم دے دیا۔ انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ کی عدالت کے جج افضل مجوکہ نے استغاثہ کی درخواست پر ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کیس کے فیصلے میں ایران اور دیگر ممالک سے متعلق پیرا گراف حذف کرنے کا حکم جاری کیا۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ فیصلے کے پیرا نمبر 36 میں موجود غلطی کی درستی کے لیے استغاثہ نے درخواست دائر کی، غلطی سے چار ممالک کا نام فیصلے میں لکھا گیا تھا اور اسٹینوگرافر نے اپنے تحریری جواب میں بتایا کہ یہ جملہ دیگر چند جملوں کے ساتھ فیصلے کی تصحیح کے دوران حذف کر دیا گیا تھا۔فیصلے میں کہا گیا کہ اسٹینوگرافر کے مطابق جملہ حتمی پرنٹ کے وقت غلطی سے دوبارہ فیصلے میں شامل ہو گیا تاہم اسٹینوگرافر کی غلطی میں بدنیتی شامل نہیں تھی۔جج اضل مجوکہ نے فیصلے میں کہا کہ موجودہ مقدمے میں مذکورہ جملے کی کوئی قانونی حیثیت یا فریقین کے حقوق کے تعین سے کوئی تعلق نہیں بنتا لہٰذا 561 اے کے تحت عدالت اختیارات استعمال کرتے ہوئے ریکارڈ پر موجود واضح غلطی کی درستی کر سکتی ہے۔ عدالت نے تحریری فیصلے میں جملے کو حذف کرنے کا حکم دیا اور درخواست کو مرکزی کیس کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کردی۔یاد رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے متنازع ٹوئٹس میں 22 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے میں دونوں کو پیکا ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت 5 سال قید، 50 لاکھ روپے جرمانہ، سیکشن 10 کے تحت 10 سال قید کی سزا اور 3 کروڑ روپے جرمانہ اور سیکشن 26 اے کے تحت 2 سال قید و 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے مجموعی طور پر دونوں کو 17، 17 سال قید کی سزائیں سنائیں اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جبکہ پیکا سیکشن 11 میں دونوں ملزمان کو بری کر دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حذف کرنے کا حکم ایمان مزاری فیصلے میں سال قید کے تحت
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز