data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260131-03-5
میں: آج لگتا ہے تمہیں انکل سرگم والے فاروق قیصر یاد آرہے ہیں۔
وہ: ہاں تم نے درست اندازہ لگایا ہے وہ پتلیوں کی شکل میں تخلیق کردہ مختلف کرداروں کے ذریعے پاکستانی معاشرے میں افراد کے سماجی رویوں، سیاسی صورت حال اور حکومتی محکموں کی کارگزاری کے ساتھ ساتھ نظام سے جڑی خامیوں اور بعض اوقات معاشی صورت حال کو بھی ہلکے پھلکے مزاحیہ اور طنزیہ انداز میں عوام کے سامنے پیش کیا کرتے تھے۔
میں: اور جہاں تک مجھے یاد ہے ان کے بنائے ہوئے کرداروں کے نام بھی بہت اچھوتے اور خاصے عوامی انداز کے ہوا کرتے تھے جیسے بونگا، رولا، ہیگا، ماسی مصیبتے وغیرہ۔
وہ: کیا ایسا نہیں ہے کہ جن باتوں کی نشاندہی وہ اپنے کرداروں کی مدد سے مخصوص تمثیلی انداز میں پتلی تماشوں کے ذریعے کرگئے تھے وہ ہمارے سماج میں آج پہلے سے زیادہ اور جگہ جگہ موجود ہیں۔
میں: ہاں یقینا ایسا ہی ہے ہمارا سماج، ہمارے ادارے، ہماری سیاست اور مجموعی طور پر ہم سب کٹھ پتلی ہیں اور ہماری ڈوریں کسی اور کے ہاتھ میں ہیں جو ہمیں جب چاہتے ہیں جس طرح چاہتے ہیں اپنی مرضی سے چلاتے رہتے ہیں۔ اور ہمیں پتا ہی نہیں چلتا کہ ہم کب بونگے، رولے، ہیگے اور نہ جانے کس کس کردار میں ڈھال کر بے وقوف بنادیے گئے۔
وہ: ویسے ہمیں کٹھ پتلی بنانے کا یہ سلسلہ صرف آج کا نہیں یہ تو برسوں سے جاری ہے، پاکستان بننے سے پہلے ہم انگریزوں کے ہاتھوں کم وبیش ڈھائی صدی تک کٹھ پتلی بنے رہے اور جب ہم اپنے بیرونی آقائوں کے ہاتھوں میں بندھی ڈوریاں تڑواکر آزاد ہوئے تو ان کی جگہ ہمارے اپنوں نے وہ ڈوریاں اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر پتلی تماشے کا وہ کھیل اسی طرح جاری رکھا جس کی بنیاد انگریز برسوں پہلے رکھ گئے تھے۔
برصغیر کے نظم ونسق کو جدید خطوط پر استوار کرکے ترقی کے نام پر جو طبقاتی اور استحصالی نظام انہوں نے آج سے برسوں قبل بناکر یہاں مسلط کیا تھا وہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں آج بھی بالکل اسی طرح برقرار اور لاگو ہے۔ وہ نظام اس وقت بھی سرمایہ داروں اور حکمرانوں پر مشتمل اشرافیہ اور معاشرے کے مقتدر طبقات کے مفادات اور جان ومال کے تحفظ کے لیے بنایا گیا تھا جس میں نوے فی صد سے زائد انگریز ہی تھے، وہ آج بھی پوری ایمان داری کے ساتھ بے ایمانی، بددیانتی، ناانصافی اور ظلم کے تمام اصولوں کے ساتھ اسی طرح جاری وساری ہے۔ آج بھی کسی صدر، وزیراعظم، جرنیل، کرنیل یا حسب ِ مراتب کوئی اور عہدے دار کہیں آمد کا ارادہ کرے تو ان کی سیکورٹی کے ذمے دار کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ایس پی، ڈی ایس پی اپنی خواب گاہوں اور حفاظتی اڈوں سے نکل اچانک حرکت میں آجاتے ہیں، اپنے ضلع یا شہر میں کسی عام آدمی کی حفاظت اور علاقے کے امن وامان کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیوں کہ ان افسران کے لیے ان جھوٹے اور بد عہد حکمرانوں اور پاسبانوں کی جان ومال کی حفاظت اولین فریضہ ہوتی ہے۔
جس طرح انگریزوں کے لیے اس دور کے عام افراد کیڑے مکوڑے اور ان کے غلام تھے آج بھی اس ملک کے عوام اس ملک کے کرتا دھرتائوں اور آقائوں کے لیے حشرات الارض سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ اور زمین پر رینگنے والے کیڑوں کی اوقات اور مقدر یہی ہوتا ہے، راہ میں کچلے جائیں، دھتکارے اور روندے جائیں اور اگر کبھی غلطی سے اپنے اوپر ڈھائے جانے والے ظلم کے خلاف احتجاج کریں تو ان کی آواز بھی بس ان ہی کے چند ہم جنسوں تک پہنچ کر وہیں نذرِ خاک ہوجاتی ہے جہاں سے وہ بلند ہوتی ہے۔ لہٰذا ہم عوام سڑکوں پہ، گڑھوں میں، گلیوں بازاروں میں، ائر کنڈیشن شاپنگ پلازوں میں کیڑے مکوڑوں کی طرح اپنی موت آپ مرتے جارہے ہیں اور اس اشرافی نظام کے نام نہاد محافظ اور قبضہ گیر عیاشی کے سمندر میں دن رات غوطے کھا کھا کربے حسی کے ریکارڈز بنا رہے ہیں۔
میں: لیکن مجھے لگتا ہے یہ کٹھ پتلی والا معاملہ اب خاصا تبدیل ہوچکا ہے۔ کم وبیش ساٹھ پینسٹھ برس قبل ایک نئی حکمت عملی اور اصولوں کے تحت شروع کیا جانے والا یہ پتلی تماشا اب تماشے سے نکل کر اس ملک کا مقدر اور واحد حقیقت بن چکا ہے۔
وہ: اور اس سارے تماشے میں سب سے دلچسپ صورت یہ ہے کہ اس بار کٹھ پتلی کو اپنے مقام ومرتبے، حیثیت اور زیادہ کھلے الفاظ میں کہا جائے تو اپنی اوقات کا پہلے سے کہیں زیادہ اور مکمل ادراک ہے۔ یعنی پتلی کا کردار نبھانے والے کسی پتلے نے اگر خود کو غلطی سے ایک جیتا جاگتا، باضمیر اور غیرت مند انسان سمجھنے کی کوشش کی تو اس کے کھلونا نما ہاتھوں اور گردن وغیرہ میں موجود ڈوریوں کو کھینچنے میں ریاست کے اصل آقائوں کے ہاتھوں کے بجائے ان کی بس اک جنبش ِ نگاہ ہی کافی ہوگی۔
میں: لیکن یہ تو ہمارے ملک کی کوئی نئی صورت حال نہیں ہے یہ کام تو ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ پورے انہماک اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنا سب سے اہم فریضہ سمجھتے ہوئے پوری پیشہ ورانہ ذمے داری کے ساتھ سرانجام دے رہی ہے۔ ایک کٹھ پتلی، پھر دوسری کٹ پتلی، پھر تیسری، چوتھی، پانچویں اور سلسلہ ہنوز جاری است۔
وہ: پر اس بار معاملہ انتخاب سے زیادہ احسان کا ہے اور احسان فراموشی کردار کو داغ دار کردیتی ہے۔ اسی لیے اس بار جو کٹھ پتلی حکومت ہمارے حصے میں آئی وہ اس احسان کا بدلہ مکمل تابعداری سے چکانا چاہ رہی ہے، تاکہ اگلی بار بھی قرعہ فال ان ہی کے نام نکلے۔
وہ: مگر اس تمام پس منظر میں میرے لیے سب سے تشویشناک صورت حال یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم کروڑوں کٹھ پتلیوں کا کردار ماضی کی طرح آج بھی بخوشی نبھارہے ہیں اور موجودہ حالات میں یہ ادراک ِذات اور بھی کٹھن سے کٹھن ہوتا جارہا ہے کہ ہم اللہ کے بندے اور ایک جیتے جاگتے سمجھدار انسان ہیں۔ آج کا انسان اس سوشل میڈیا پر اس طرح اوندھے منہ گرا ہے، تو اسے اب نہ کوئی غم کھارہا ہے، نہ دکھ ستا رہا ہے اور نہ ہی وہ استحصال نظر آرہا ہے جس کا وہ برس ہابرس سے شکار ہے۔ اسے ہروقت صرف اپنے اس دکھاوے کے پروفائل کی فکر لاحق رہتی ہے جو اس کی اصل شخصیت سے خاصا دور ہے، وہ اللہ میاں کی طرف سے عطا کی گئی اپنی صورت کو مختلف فلٹرز لگانے کے بعد ایک شاہکار بنانے میں لگا رہتا ہے یا اپنے خیالات اور عالمانہ کمنٹس کے ذریعے اپنے ہی جیسوں کو مرعوب کرنے کی کوشش میں سارا وقت گنوادیتا ہے۔ یعنی ہم دھوکے، فریب اور منافقت کے اس جہان میں ایک کٹھ پتلی کی طرح جکڑ دیے گئے ہیں۔ کاش ہم ادراک ِ ذات کی پہلی منزل پر ہی قدم رکھنے کے قابل ہوسکیں۔ بقول شاعرؔ
حق اور سچ کا ترجمان ہوں میں
نہیں کٹھ پتلی، اک انسان ہوں میں
تم سے دھوکا میں نہیں کھائوں گا
تم سمجھتے ہو کہ نادان ہوں میں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کٹھ پتلی صورت حال کے ساتھ ا ج بھی کے نام کے لیے
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔