چینی کمپنی گی اسپیِس اور پاک سیٹ کے درمیان سیٹلائٹ کنیکٹیوٹی کے فروغ کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
چین کی کمرشل اسپیس کمپنی گی اسپیِس نے پاکستان کی سیٹلائٹ کمیونیکیشن آپریٹر پاک سیٹ انٹرنیشنل کے ساتھ تعاون کا معاہدہ کر لیا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد پاکستان اور قریبی خطوں میں سیٹلائٹ پر مبنی کنیکٹیوٹی سروسز کے فروغ میں تعاون کرنا ہے۔
پاک سیٹ کے مطابق یہ شراکت داری پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے، دور دراز علاقوں میں کنیکٹیوٹی بہتر کرنے اور خطے میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کو سہارا دینے میں مدد دے گی۔
یہ بھی پڑھیے: پاک چین ای مائننگ پلیٹ فارم کا آغاز، معدنی شعبے میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری متوقع
گی اسپیِس کے بیان کے مطابق تعاون کا دائرہ کار پالیسی ہم آہنگی، تکنیکی تعاون اور مارکیٹ ڈویلپمنٹ پر مشتمل ہوگا، خاص طور پر کمپنی کے لو ارتھ آربٹ سیٹلائٹ آئی او ٹی نیٹ ورک گی سیٹ کام کے حوالے سے، جسے پاکستان اور آس پاس کے علاقوں میں متعارف کرایا جائے گا۔
معاہدے کے تحت پاک سیٹ پاکستان میں کمرشل آپریشنز کے لیے درکار پالیسی معاملات، اسپیکٹرم کوآرڈینیشن اور قانونی تقاضوں کی تکمیل میں معاونت کرے گا، جبکہ دونوں فریق نیٹ ورک تک رسائی، سروس انٹیگریشن اور مارکیٹنگ کے شعبوں میں بھی تعاون کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: پاک چین تعلقات وقت کی کسوٹی پر کھرے ثابت ہوئے، وزیر اطلاعات عطا تارڑ
گی اسپیِس کے چیف ایگزیکٹو وانگ یانگ نے کہا کہ کمپنی پاکستان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ‘ہر موسم میں کام کرنے والی’ اور ‘اعلیٰ اعتماد’ کی حامل سیٹلائٹ کمیونیکیشن سروسز فراہم کرے گی، جو دشوار گزار علاقوں میں کوریج کے خلا، صنعتی ڈیجیٹلائزیشن اور بین الریجنل رابطوں میں مددگار ثابت ہوں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک چین خلا سیٹلائٹ موسم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک چین خلا سیٹلائٹ گی اسپی س پاک سیٹ
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: وزیراعظم کی صنعتکاروں سے مشاورت، برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور
اویس کیانی: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے معروف صنعتکاروں اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کرتے ہوئے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ، معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق اہم مشاورت کی۔
ملاقات میں ملک کی بڑی کاروباری شخصیات نے شرکت کی جبکہ وزیراعظم نے کاروباری برادری کو ملکی معیشت کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری ہی پائیدار معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کی معاشی پالیسی کا بنیادی محور برآمدات میں اضافہ، صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کا فروغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے، کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے بجٹ میں مختلف اقدامات شامل کیے جا رہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ کاروبار دوست پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ حکومت ایسی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جو پیداوار، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کر سکیں۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
اجلاس کے دوران کاروبار، صنعت اور تجارت کے فروغ کیلئے حکومتی اقدامات پر بریفنگ بھی دی گئی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات کے فوری فیصلوں کیلئے اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں جبکہ خصوصی کمرشل کورٹس کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔
بریفنگ میں کراچی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے، موٹرویز کی اپ گریڈیشن، ریلوے انفراسٹرکچر کی بہتری اور نیشنل اے آئی ٹرانسفارمیشن پلان سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
کاروباری رہنماؤں نے معاشی بحالی، ٹیکس اصلاحات، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ اور سرمایہ کاری دوست ماحول کی فراہمی پر وزیراعظم اور حکومتی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ وفد نے بجلی کے نرخوں میں کمی، ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور کاروباری آسانیوں کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
شرکاء نے آئندہ بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کو اعتماد میں لینے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے معاشی ترقی، صنعتی توسیع اور برآمدات میں اضافے کیلئے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان