data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پمز اسپتال کی انتظامیہ نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی صحت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں اور خدشات کے تناظر میں تفصیلی وضاحت جاری کر دی ہے۔

نجی ٹی وی  کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر رانا عمران سکندر کے مطابق عمران خان کے تمام ضروری طبی معائنے اور ٹیسٹ مکمل کیے گئے ہیں اور ان کی مجموعی حالت تسلی بخش ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے دائیں آنکھ میں بینائی کم ہونے کی شکایت سامنے آنے کے بعد فوری طور پر ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے مکمل پیشہ ورانہ انداز میں ان کا طبی معائنہ کیا۔

پروفیسر رانا عمران سکندر کے مطابق عمران خان کو آنکھ سے متعلق مسئلے کی نوعیت، ممکنہ وجوہات اور علاج کے طریقہ کار سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے واضح کیا کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب آنکھوں کے ماہرین کی سفارش پر عمران خان کو پمز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سینئر ڈاکٹروں نے تمام ضروری اقدامات کیے۔ معائنے کے بعد جب ڈاکٹروں کو اطمینان ہوا تو انہیں واپس جیل منتقل کر دیا گیا۔

اسپتال حکام کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کو معمول کے مطابق رکھا گیا اور اس میں کسی غیر معمولی صورتحال کا سامنا نہیں ہوا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طبی معاملات میں غیر ضروری قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ ایسی اطلاعات عوام میں بے جا تشویش پیدا کرتی ہیں۔ اسی تناظر میں وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی معائنے کے بعد تصدیق کی کہ عمران خان صحت مند ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔

دوسری جانب اس معاملے پر مختلف سیاسی بیانات بھی سامنے آئے۔ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور معروف قانون دان ڈاکٹر بابر اعوان نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کو کسی معمولی مسئلے کے بجائے ایک بڑے طبی خدشے کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ان کے بیان کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں تشویش میں اضافہ ہوا، جس پر اسپتال انتظامیہ کی وضاحت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اُدھر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بھی اس صورتحال پر سوالات اٹھاتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل سے پمز اسپتال منتقل کیا گیا لیکن اہل خانہ کو بروقت آگاہ نہیں کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کے مطابق کیا گیا کے بعد

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق