پشاور میں گاڑیوں پر تیز لائٹس کے استعمال پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: پشاور میں ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے گاڑیوں میں ہر قسم کی تیز لائٹس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق لیزر لائٹس، موڈیفائیڈ ہیڈلائٹس اور ہائی بیم لائٹس کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رات کے وقت تیز لائٹس انسانی جان کے لیے خطرہ بن رہی ہیں اور متعدد ٹریفک حادثات کی بڑی وجہ ثابت ہو رہی ہیں۔
بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اعلامیے کے مطابق ہائی بیم لائٹس کی خرید و فروخت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی کا مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور ٹریفک نظام کو بہتر بنانا ہے جبکہ پولیس اور متعلقہ اداروں کو سختی سے عملدرآمد کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز