جمہوریہ کانگو میں کان کے منہدم ہونے سے 200 سے زائد افراد ہلاک WhatsAppFacebookTwitter 0 31 January, 2026 سب نیوز

کنشاسا: (آئی پی ایس) افریقہ کے معدنی دولت سے مالا مال مگر غربت میں ڈوبے ہوئے جمہوریہ کانگو میں روبایا کولٹن کان کے منہدم ہونے سے 200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کی تصدیق اس صوبے کے باغی گروپ کی جانب سے مقرر کردہ گورنر کے ترجمان لومومبا کامبیرے مویسا نے کر دی ہے۔

یہ کان صوبہ نارتھ کیوو کے دارالحکومت گوما شہر سے تقریباً 60 کلومیٹر (37 میل) شمال مغرب میں واقع ہے، مٹی کے تودے گرنے کے حادثے میں 200 سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں کان کن، بچے اور بازار میں کام کرنے والی خواتین شامل ہیں، کچھ لوگوں کو بروقت نکال لیا گیا، تاہم وہ شدید زخمی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تقریباً 20 زخمی افراد مختلف طبی مراکز میں زیر علاج ہیں، اس وقت بارشوں کا موسم ہے، زمین کمزور ہو چکی ہے، جب متاثرین کان کے اندر تھے تو زمین بیٹھ گئی۔

نارتھ کیوو صوبے کے گورنر، جو ایم 23 باغی گروپ کی جانب سے مقرر کیے گئے ہیں، ایراستون بہاتی موسانگا نے بتایا کہ کچھ لاشیں نکال لی گئی ہیں، تاہم انہوں نے ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی درست تعداد نہیں بتائی، البتہ بڑے جانی نقصان کا عندیہ دیا۔

صوبائی گورنر کے ایک مشیر نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 200 سے زائد ہے، جبکہ فرانسیسی خبر ایجنسی نے کہا کہ وہ آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کر سکا۔

اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے روبایا کے ایک روایتی کان کن فرانک بولنگو نے کہا کہ خیال ہے کہ اب بھی لوگ کان کے اندر پھنسے ہوئے ہیں، بارش ہوئی، پھر مٹی کا تودہ گرا اور لوگوں کو بہا لے گیا، کچھ لوگ زندہ دفن ہو گئے اور کچھ اب بھی سرنگوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

روبایا کان دنیا کے تقریباً 15 فیصد کے برابر کولٹن کی پیداوار فراہم کرتی ہے، جس سے ٹینٹالم تیار کیا جاتا ہے، یہ ایک حرارت برداشت کرنے والی دھات ہے جو موبائل فونز، کمپیوٹرز، خلائی آلات اور گیس ٹربائنز بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔

یہ کان، جہاں مقامی لوگ روزانہ چند ڈالر کمانے کے لیے ہاتھوں سے کھدائی کرتے ہیں، 2024 سے روانڈا کی حمایت یافتہ ایم 23 باغی گروپ کے کنٹرول میں ہے، اس سے قبل یہ کان کبھی ڈی آر کانگو کی حکومت اور کبھی مختلف باغی گروپوں کے قبضے میں رہی ہے۔

بھاری اسلحے سے لیس ایم 23 باغی گروپ، جس کا مقصد دارالحکومت کنشاسا میں قائم ڈی آر کانگو کی حکومت کا تختہ الٹنا ہے، اس نے گزشتہ سال ایک تیز رفتار پیش قدمی کے دوران ملک کے مشرقی حصے میں مزید معدنیات سے مالا مال علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

اقوام متحدہ نے ایم 23 باغیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ روبایا کے وسائل لوٹ کر اپنی بغاوت کے لیے فنڈز فراہم کر رہے ہیں، جس کی روانڈا کی حکومت تردید کرتی ہے، ڈی آر کانگو کی بے پناہ معدنی دولت کے باوجود ملک کے 70 فیصد سے زائد لوگ روزانہ 2.

15 ڈالر سے کم آمدن پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسانحہ بھاٹی گیٹ کے ملزمان عدالت پیش، چار روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے سانحہ بھاٹی گیٹ کے ملزمان عدالت پیش، چار روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے بانی پی ٹی آئی کی صحت اتنی خراب نہیں جتنا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، محمود اچکزئی عمران خان کی دائیں آنکھ میں بینائی کم ہونے کی شکایت، اسپتال انتظامیہ کا اہم بیان سامنے آگیا جج نے ٹرمپ کے ووٹنگ حکم کے اہم حصے روک دیے عالمی ثالثی عدالت کا بھارت کو پاکستانی دریاؤں پر قائم پن بجلی منصوبوں کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم عمران خان صحت مند اور ٹھیک ہیں، ہر چیز کی پریس ریلیز ضروری نہیں ہوتی، طلال چوہدری TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سے زائد افراد کان کے

پڑھیں:

آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود