سندھ حکومت کا کسانوں کو یوریا کھاد پر سبسڈی فراہم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے سندھ ویٹ گروورز سپورٹ پروگرام کے تحت تصدیق شدہ کسانوں کو یوریا کھاد کی سبسڈی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سبسڈی کی ادائیگی 2 فروری 2026 (پیر) سے شروع ہوگی۔ سردار محمد بخش مہر کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ زراعت نے دوسرے مرحلے کے لیے یوریا کھاد کی سبسڈی کے طور پر 12 ارب روپے سے زائد رقم سندھ بینک کو جاری کر دی ہے۔
اس سلسلے میں تصدیق شدہ 2 لاکھ 12 ہزار 171 کسانوں کی فہرست بھی سندھ بینک کو ارسال کر دی گئی ہے۔
وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ گندم کے تصدیق شدہ کسان فی ایکڑ 8 ہزار روپے یوریا سبسڈی کے طور پر سندھ بینک اور متعلقہ بینکوں سے وصول کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایت پر گندم کے کاشتکاروں کو سبسڈی کی رقم فراہم کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔