Nawaiwaqt:
2026-06-03@02:12:21 GMT

لاہور ہائیکورٹ کے مستقل ہونیوالے 11 ججز نے حلف اٹھا لیا

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

لاہور ہائیکورٹ کے مستقل ہونیوالے 11 ججز نے حلف اٹھا لیا

لاہور ہائیکورٹ کے مستقل ہونے والے11 ججز نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھالیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے مستقل ہونے والے ججز سے انکے عہدوں کا حلف لیا۔ حلف برداری کی سادہ و پروقار تقریب لاہور ہائیکورٹ کے مرکزی سبزہ زار میں ہوئی جس میں لاہور ہائیکورٹ کے ججز صاحبان، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی و صوبائی لاء افسران، پاکستان و پنجاب بار کونسلز کے ممبران نے شرکت کی۔ لاہور ہائیکورٹ و لاہور بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداران، لاہور ہائیکورٹ کے افسران، جوڈیشل افسران، وکلاء اور حلف اٹھانے والے ججز کے اہلِ خانہ نے بھی حلف برداری تقریب میں شرکت کی۔ رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ امجد اقبال رانجھا نے تقریب کی نظامت کے فرائض سرانجام دیئے۔ لاہور ہائیکورٹ کے مستقل ہونے والے ججز صاحبان میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان اورجسٹس سردار اکبر علی شامل ہیں۔ جسٹس سید احسن رضا کاظمی، جسٹس ملک جاوید اقبال وینس، جسٹس محمد جواد ظفر اورجسٹس خالد اسحاق نے بھی مستقل ججز کی حیثیت سے حلف لیا۔جسٹس ملک اویس خالد، جسٹس چودھری سلطان محمود، جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس عبہر گل خان بھی مستقل ہونے والے ججز میں شامل ہیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے حلف اٹھانے والے ججز کو مبارکباد بھی دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: لاہور ہائیکورٹ کے مستقل ہونے والے والے ججز

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت