سعودی وزارت خارجہ کی بلوچستان میں دہشتگردانہ حملوں کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے گذشتہ روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگردانہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف اضلاع کوئٹہ، گوادر، خاران، کلات، پانجگُر اور مستونگ سمیت متعدد علاقوں میں دہشت گردانہ حملے ہوئے جن میں سیکورٹی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ان حملوں میں کم از کم 18 شہری (بشمول خواتین و بچوں) اور 15 سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بلوچستان میں دہشت گردانہ واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر قسم کی دہشت گردی اور انتہاپسندی کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ دہشت گردانہ حملوں پر گہری تشویش و افسوس کا اظہار کیا گیا۔
سعودی عرب نے پاکستانی سیکورٹی فورسز کے اقدامات اور حکمت عملی کو سراہا اور کہا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سعودی حکومت نے حملوں میں متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کے لیے دعائے صحت بھی کی۔
سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک اور بین الاقوامی مشنز نے بھی حملوں کی مذمت کی ہے۔ قطر، برطانیہ، ترکیی اور متعدد دیگر ممالک نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔