نائٹ کلب تنازع، بروک نے ساتھیوں کو بچانے کیلیے جھوٹ بولا
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
انگلش کپتان ہیری بروک کی جانب سے نائٹ کلب تنازع میں ساتھی کھلاڑیوں کو بچانے کیلیے جھوٹ بولنے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایشز سے قبل دورہ نیوزی لینڈ کے دوران ویلنگٹن میں شیڈول ون ڈے میچ سے قبل رات کو کھانے کے بعد انہوں نے شراب پی، بعد ازاں انہوں نے نائٹ کلب میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی، جس پر انہیں باؤنسر نے مکا جڑا تھا۔
بعد ازاں اس واقعے پر انگلش بورڈ نے بروک کو نہ صرف سخت وارننگ جاری کی بلکہ 30 ہزار پاؤنڈ جرمانہ بھی کیا گیا تھا۔
بروک نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو میں اکیلے نہیں تھا بلکہ کچھ اور ساتھی بھی موجود تھے، میں ویلنگٹن میں جو کچھ ہوا اس کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔
بروک نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ اس شام میرے ساتھ کچھ اور بھی پلیئرز موجود تھے، ان کو بچانے کیلیے میں نے پہلے نام نہیں لیا تھا۔
انگلش کپتان نے کہا کہ میں اس واقعے پر ایک بار پھر معافی مانگتے ہوئے تسلیم کرتا ہوں کہ مجھے بطور وائٹ بال کپتان اپنی آف دی فیلڈ ذمہ داری کو سمجھنے کیلیے مزید سیکھنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔