بی جے پی کارپوریٹر ہمیں مردہ قرار دیکر ووٹر لسٹ سے نام ہٹوا رہے ہیں، گجراتی مسلمان
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
شکایت کرنے والوں میں شامل انور نگر محلہ کے رہنے والے عبد الرزاق وزیر شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ بی جے پی ہمیں اسلئے نشانہ بنا رہی ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست گجرات کے سورت کے صلابت پورہ علاقے میں بی جے پی کارپوریٹر پر فارم-7 کا غلط استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں مسلمان ووٹروں کو "مردہ" قرار دے کر ان کے نام حذف کروانے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے پولیس میں شکایت درج کر کے کارروائی اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سورت کے صلابت پورہ علاقے میں ووٹر لسٹ کو لے کر بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ سینکڑوں رہائشیوں نے مقامی پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت دی ہے، جس میں مقامی بی جے پی کارپوریٹر وکرم پوپٹ پاٹل پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ووٹر لسٹ سے ان کا نام ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فارم نمبر 7 (جو ووٹر کے نام کو حذف کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے) کا غلط استعمال کرتے ہوئے اور کئی زندہ ووٹروں کو "مردہ" قرار دے کر ان کا نام حذف کرنے کے لئے درخواست دی گئی ہیں۔ درخواست کرنے والے فارم پر بی جے پی کارپوریٹر وکرم پوپٹ پاٹل کا نام اور موبائل نمبر درج ہے۔ شکایت کرنے والوں میں شامل انور نگر محلہ کے رہنے والے عبد الرزاق وزیر شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ بی جے پی ہمیں اس لئے نشانہ بنا رہی ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جان بوجھ کر ہمارے ووٹ کاٹے جا رہے ہیں۔ جب تیزی سے یہ خبر مسلم اکثریتی علاقے صلابت پورہ میں پھیلی، تو لوگوں نے چھان بین شروع کی کہ فارم 7 کس نے بھرا ہے۔ نیوز پورٹل "دی وائر" کو تقریباً 118 لوگوں کے نام اور ای پی آئی سی نمبر ملے، جنہیں مردہ قرار دے کر فارم 7 بھرا گیا ہے۔
22 جنوری 2026ء کو ایسے ووٹروں کی ایک بڑی تعداد، جن کے ناموں کو مردہ قرار دے کر ہٹانے کی کوشش کی گئی ہے، صلابت پورہ تھانہ پہنچے تھے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام فارم لمبائت-ادھنا یارڈ کے بی جے پی کارپوریٹر وکرم پوپٹ پاٹل نے بھرے ہیں۔
متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی جائے، متعلقہ بی جے پی کارپوریٹر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور ووٹر لسٹ کی آزادانہ جانچ کرائی جائے۔ مقامی باشندوں کا دعویٰ ہے کہ وہ نہ صرف زندہ ہیں، بلکہ برسوں سے ایک ہی پتے پر رہ رہے ہیں اور باقاعدہ ووٹر ہیں، اس کے باوجود انہیں "مردہ" قرار دے کر فہرست سے نکالنے کا عمل شروع کیا گیا۔
مقامی شہریوں کا الزام ہے کہ یہ سارا معاملہ مذہبی شناخت اور سیاسی میلان کی بنیاد پر ووٹروں کو نشانہ بنانے سے متعلق ہے، جس سے آئندہ بلدیاتی انتخابات سے قبل ماحول مزید کشیدہ ہوگیا ہے۔ فارم 7 الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کو مخاطب ایک درخواست ہے، جس میں موجودہ ووٹر لسٹ میں کسی دوسرے شخص کے نام کو شامل کرنے پر یا اپنے نام کو حذف کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ یہ رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز، 1960ء کے قواعد 13(2) اور 26 کے تحت چلتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بی جے پی کارپوریٹر صلابت پورہ ووٹر لسٹ کے نام
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس