بلوچستان کی سکیورٹی ناکامی 8 فروری کے انتخابی جرم کا تسلسل ہے، جے یو آئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اپنے بیان میں جے یو آئی رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں بہنے والا خون کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل سیاسی جبر، انتخابی دھاندلی اور عوامی مینڈیٹ کی توہین کا انجام ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے رہنماء مولانا عبدالرحمٰن رفیق، عین اللہ شمس، مولانا خورشید احمد اور دیگر رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ہم واضح اور دوٹوک الفاظ میں اس امر کا اعلان کرتے ہیں کہ اگر 8 فروری 2024 کو عوام کے حق رائے دہی پر ڈاکہ نہ ڈالا جاتا، قوم کے فیصلے کو نادیدہ قوتوں کے ہاتھوں یرغمال نہ بنایا جاتا، تو آج بلوچستان بالخصوص کوئٹہ اس سنگین بدامنی، خونریزی اور عدم تحفظ کی صورتحال سے ہرگز دوچار نہ ہوتا۔ ملکی سطح پر بالعموم اور بلوچستان میں بالخصوص عوام کی رائے کو روند کر، عوامی حمایت سے محروم ڈمی اور مسلط کردہ افراد کو اقتدار میں لایا گیا، جس کا خمیازہ آج معصوم شہری، نہتے عوام اور فرض شناس سکیورٹی اہلکار اپنے خون سے ادا کر رہے ہیں۔ یہ خون کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل سیاسی جبر، انتخابی دھاندلی اور عوامی مینڈیٹ کی توہین کا انجام ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ جمعیت علماء اسلام اس حقیقت کو پوری ذمہ داری سے دہراتی ہے کہ اگر بلوچستان میں حقیقی، شفاف اور آزاد انتخابات ہوتے، عوام کے ووٹ سے ان کی حقیقی نمائندہ جماعتیں منتخب ہو کر اقتدار میں آتیں، تو آج صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں دن دیہاڑے دہشت گرد شہر کے وسط میں دندناتے نہ پھرتے، نہ ہی ریڈ زون میں کارروائی کرتے اور نہ ہی کوئٹہ کے شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے۔ آج کی بدامنی، سکیورٹی کی ناکامی اور ریاستی رٹ کی کمزوری دراصل 8 فروری 2024 کے انتخابی جرم کا تسلسل ہے، جس نے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی آخری دیوار بھی گرا دی ہے۔ عوامی مینڈیٹ کو پامال کرنے والے عناصر کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ بندوق، طاقت اور مسلط کردہ نظام سے نہ امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی ملک کو استحکام مل سکتا ہے۔ اسی تناظر میں جمعیت علماء اسلام کی مرکزی اور صوبائی قیادت کے فیصلے کے مطابق 8 فروری کو ضلع کوئٹہ میں یوم سیاہ بھرپور انداز میں منایا جائے گا۔ یوم سیاہ کے موقع پر احتجاجی مظاہرے کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کی توہین، جمہوریت کے قتل اور بلوچستان کو بدامنی کی آگ میں جھونکنے کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عوامی مینڈیٹ
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔