اپنے بیان میں جے یو آئی رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں بہنے والا خون کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل سیاسی جبر، انتخابی دھاندلی اور عوامی مینڈیٹ کی توہین کا انجام ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے رہنماء مولانا عبدالرحمٰن رفیق، عین اللہ شمس، مولانا خورشید احمد اور دیگر رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ہم واضح اور دوٹوک الفاظ میں اس امر کا اعلان کرتے ہیں کہ اگر 8 فروری 2024 کو عوام کے حق رائے دہی پر ڈاکہ نہ ڈالا جاتا، قوم کے فیصلے کو نادیدہ قوتوں کے ہاتھوں یرغمال نہ بنایا جاتا، تو آج بلوچستان بالخصوص کوئٹہ اس سنگین بدامنی، خونریزی اور عدم تحفظ کی صورتحال سے ہرگز دوچار نہ ہوتا۔ ملکی سطح پر بالعموم اور بلوچستان میں بالخصوص عوام کی رائے کو روند کر، عوامی حمایت سے محروم ڈمی اور مسلط کردہ افراد کو اقتدار میں لایا گیا، جس کا خمیازہ آج معصوم شہری، نہتے عوام اور فرض شناس سکیورٹی اہلکار اپنے خون سے ادا کر رہے ہیں۔ یہ خون کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل سیاسی جبر، انتخابی دھاندلی اور عوامی مینڈیٹ کی توہین کا انجام ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ جمعیت علماء اسلام اس حقیقت کو پوری ذمہ داری سے دہراتی ہے کہ اگر بلوچستان میں حقیقی، شفاف اور آزاد انتخابات ہوتے، عوام کے ووٹ سے ان کی حقیقی نمائندہ جماعتیں منتخب ہو کر اقتدار میں آتیں، تو آج صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں دن دیہاڑے دہشت گرد شہر کے وسط میں دندناتے نہ پھرتے، نہ ہی ریڈ زون میں کارروائی کرتے اور نہ ہی کوئٹہ کے شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے۔ آج کی بدامنی، سکیورٹی کی ناکامی اور ریاستی رٹ کی کمزوری دراصل 8 فروری 2024 کے انتخابی جرم کا تسلسل ہے، جس نے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کی آخری دیوار بھی گرا دی ہے۔ عوامی مینڈیٹ کو پامال کرنے والے عناصر کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ بندوق، طاقت اور مسلط کردہ نظام سے نہ امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی ملک کو استحکام مل سکتا ہے۔ اسی تناظر میں جمعیت علماء اسلام کی مرکزی اور صوبائی قیادت کے فیصلے کے مطابق 8 فروری کو ضلع کوئٹہ میں یوم سیاہ بھرپور انداز میں منایا جائے گا۔ یوم سیاہ کے موقع پر احتجاجی مظاہرے کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کی توہین، جمہوریت کے قتل اور بلوچستان کو بدامنی کی آگ میں جھونکنے کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عوامی مینڈیٹ

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار