پشاور، ایف سی ہیڈکوارٹر خودکش حملہ کیس میں اہم پیشرفت، سہولت کار بھی افغان شہری نکلے
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکواٹرز پر حملہ گزشتہ سال 24 نومبر کو ہوا تھا، حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 جوان شہید اور 5 زخمی ہوئے تھے، دہشتگردوں کے حملے میں 8 شہری بھی زخمی ہوئے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹر پشاور خودکش دھماکوں کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے خودکش بمباروں کے سہولت کاروں کا تعلق بھی افغانستان سے ہے۔ حکام کا بتانا ہے کہ خودکش دھماکوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، واقعے سے متعلق اہم گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکواٹرز پر حملہ گزشتہ سال 24 نومبر کو ہوا تھا، حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 جوان شہید اور 5 زخمی ہوئے تھے، دہشتگردوں کے حملے میں 8 شہری بھی زخمی ہوئے تھے۔ تفتیشی حکام کے مطابق ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے تینوں خودکش بمبار افغان شہری تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فیڈرل کانسٹیبلری زخمی ہوئے تھے حملے میں پر حملہ ایف سی
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔