پشاور، ایف سی ہیڈکوارٹر خودکش حملہ کیس میں اہم پیشرفت، سہولت کار بھی افغان شہری نکلے
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکواٹرز پر حملہ گزشتہ سال 24 نومبر کو ہوا تھا، حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 جوان شہید اور 5 زخمی ہوئے تھے، دہشتگردوں کے حملے میں 8 شہری بھی زخمی ہوئے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹر پشاور خودکش دھماکوں کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے خودکش بمباروں کے سہولت کاروں کا تعلق بھی افغانستان سے ہے۔ حکام کا بتانا ہے کہ خودکش دھماکوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، واقعے سے متعلق اہم گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکواٹرز پر حملہ گزشتہ سال 24 نومبر کو ہوا تھا، حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 جوان شہید اور 5 زخمی ہوئے تھے، دہشتگردوں کے حملے میں 8 شہری بھی زخمی ہوئے تھے۔ تفتیشی حکام کے مطابق ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے تینوں خودکش بمبار افغان شہری تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فیڈرل کانسٹیبلری زخمی ہوئے تھے حملے میں پر حملہ ایف سی
پڑھیں:
رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ کے لیے قائم رائل کمیشن نے شہر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک نئی آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔
مذکورہ مہم کا مقصد زائرین اور سیاحوں کو مکہ کے تاریخی مقامات، ان کی مذہبی، تہذیبی اور تمدنی اہمیت سے روشناس کرانا اور انہیں شہر کے عظیم ورثے سے مزید قریب لانا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، یہ تمام اقدامات سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
’یہ مہم رائل کمیشن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تاریخی ورثے کا تحفظ، ثقافتی اقدار کو فروغ دینا اور تاریخی مقامات کو پائیدار تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔‘
رائل کمیشن کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت درجنوں تاریخی مقامات کی بحالی اور ترقی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ مکہ کے 60 اہم تاریخی مقامات کی دستاویز بندی بھی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار
اس کے علاوہ 27 تاریخی مقامات عوام اور زائرین کے لیے کھولے جا چکے ہیں اور سات وزیٹر سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد افراد ان تاریخی مقامات کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ زائرین کی اطمینان کی شرح 97.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
مذکورہ اعدادوشمار فراہم کی جانے والی سہولیات اور تاریخی ورثے کے تحفظ و ترقی کے اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تاریخی مقامات تاریخی ورثے رائل کمیشن زائرین سعودی پریس ایجنسی سعودی عرب سعودی وژن سیاح مکہ مکرمہ