بلوچستان میں دہشت گردی کرنیوالوں کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے، میاں صداقت مجید
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
( سٹی42)سینئر وائس چیئرمین امن کمیٹی برائے بین المذاھب ہم آہنگی پنجاب میاں صداقت مجید کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی پر عوام میں شدید غم وغصہ اور تکلیف پائی جا رہی ہے، بلوچستان کے 12مختلف مقامات پر دہشت گردوں نے خون کی ہولی کھیلی ہے،ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے ۔
چور شادی پر جانے والی فیملی کے گھر کا صفایا کر گئے
ان خیالات کا اظہار سینئر وائس چیئرمین امن کمیٹی برائے بین المذاھب ہم آہنگی پنجاب میاں صداقت مجید نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے نہتے اور مظلوم شہریوں کو بے دردی سے نشانہ بنایا اور درجنوں بے گناہ شہید کیے،جس کا بہت دکھ ہے جبکہ ہمارے سکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی سے درجنوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اللہ پاک نے چاہا تو جلد بلوچستان میں امن قائم ہو گا اور ہم دہشت گردوں سے اپنے پیارے ملک کا کونا کونا محفوظ بنائیں گے۔
آزاد کشمیر کے طلبا نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جدوجہد آزادی کو مشترکہ ذمہ داری قرار دے دیا
اس موقع پر شہیدوں کے ایصال ثواب کے لیے امن کمیٹی کے دفتر میں دعائے مغفرت کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 امن کمیٹی بلوچستان بلوچستان امن کمیٹی میڈیا گفتگو بلوچستان امن کمیٹی
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔