اسلام ٹائمز: 5 اکتوبر 1958ء کے دن جنرل چارلس ڈی گال کے ہاتھوں فرانس کی پانچویں جمہوریہ اپنی تاسیس کے آغاز سے ہی امریکہ سے ہٹ کر خودمختار حیثیت اختیار کرنے کی تلاش میں ہے۔ "منفرد خارجہ پالیسی" اور "یورپی قیادت کے دعووں" پر مبنی اشارے اب بھی پیرس کے فیصلہ ساز حلقوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایمونوئیل میکرون نے سبز براعظم کے خود ساختہ نمائندے کے طور پر واشنگٹن کی یکہ تازی روکنے کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا ہے۔ تاہم فرانسیسی صدر یہ سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ ٹرمپ کی ذہنیت کچھ ایسی ہے کہ وہ طاقتور بیک گراونڈ سے عاری شخص کے ساتھ ذاتی دوستی پر راضی نہیں ہوتا۔ آج تک امریکہ کے 47 ویں صدر نے صرف چین اور روس کے رہنماؤں کو اپنے ہم پلہ جانا ہے۔ یورپی ممالک، طاقتور اتحاد کے فقدان کے باعث امریکہ کی نظر میں چین اور روس کے مقابلے میں ہم پلہ اتحادی تصور نہیں کیے جاتے۔ تحریر: سید رضا حسینی
ٹرمپ دور میں امریکی توسیع پسندی پر قابو پانے کے لیے فرانسیسی صدر ایمونوئل میکرون کی حکمت عملی کا خلاصہ اس مشہور جملے میں کیا جا سکتا ہے "اپنے دوستوں کو قریب رکھیں اور اپنے دشمنوں کو زیادہ قریب رکھیں"۔ گزشتہ ایک سال کے دوران اپنے امریکی ہم منصب کے توہین آمیز رویے کے باوجود الیزا پیلس کے رہائشی نے خود کو ٹرمپ کے لیے ایک "ہمدرد دوست" کے طور پر پیش کیا ہے۔ لیکن میکرون اپنی امیدوں کے برعکس، نہ صرف امریکہ کے مین اسٹریم مخالفین کا موقف نرم کرنے میں ناکام رہے ہیں بلکہ اپنی ساکھ بھی کھو چکے ہیں۔ اسی سلسلے میں امریکی صدر نے فرانس کی تذلیل کرتے ہوئے نجی گفتگو کو عوامی سطح پر جاری کر دیا تاکہ یہ ظاہر کر سکے کہ وہ اس منصوبے کا مخالف ہے۔ فرانسیسی صدر میکرون نے التجا بھرے لہجے میں ٹرمپ کو پیغام بھجوایا تھا۔
اس پیغام میں اس نے لکھا تھا: "ہم شام اور ایران میں بڑے بڑے کام کر سکتے ہیں، آپ کا گرین لینڈ سے کیا لینا دینا ہے، چلو پیرس میں ڈنر کرتے ہیں، ہم جی 7 کا اجلاس بھی پیرس میں منعقد کرتے ہیں اور میں یوکرینی، شامی اور روسی حکام کو بھی مدعو کروں گا"۔ ٹرمپ کے ذاتی اکاؤنٹ پر یہ پیغام جاری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک تصویر بھی شائع ہوئی جس میں دکھایا گیا تھا کہ امریکہ کے صدر اور نائب صدر گرین لینڈ کے قطبی علاقے پر امریکی پرچم لہرا رہے ہیں۔ گویا یہ پیغام ٹرمپ کی جانب سے اپنے دیرینہ اتحادیوں سے اختلاف پر فتح کا پیغام تھا۔ بحر اوقیانوس کے تنازعات گزشتہ ایک سال کے دوران انتہائی درجہ شدت اختیار کر چکے ہیں۔ یورپی ٹرائیکا نے بارہا چاپلوسی کے ذریعے امریکی سامراجی عزائم کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے لیکن وائٹ ہاؤس نے ورلڈ آرڈر کے خلاف خطرناک یکطرفہ رویہ اپنا رکھا ہے۔
نابرابر تعلق کا جائزہ
5 اکتوبر 1958ء کے دن جنرل چارلس ڈی گال کے ہاتھوں فرانس کی پانچویں جمہوریہ اپنی تاسیس کے آغاز سے ہی امریکہ سے ہٹ کر خودمختار حیثیت اختیار کرنے کی تلاش میں ہے۔ "منفرد خارجہ پالیسی" اور "یورپی قیادت کے دعووں" پر مبنی اشارے اب بھی پیرس کے فیصلہ ساز حلقوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایمونوئیل میکرون نے سبز براعظم کے خود ساختہ نمائندے کے طور پر واشنگٹن کی یکہ تازی روکنے کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا ہے۔ تاہم فرانسیسی صدر یہ سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ ٹرمپ کی ذہنیت کچھ ایسی ہے کہ وہ طاقتور بیک گراونڈ سے عاری شخص کے ساتھ ذاتی دوستی پر راضی نہیں ہوتا۔ آج تک امریکہ کے 47 ویں صدر نے صرف چین اور روس کے رہنماؤں کو اپنے ہم پلہ جانا ہے۔ یورپی ممالک، طاقتور اتحاد کے فقدان کے باعث امریکہ کی نظر میں چین اور روس کے مقابلے میں ہم پلہ اتحادی تصور نہیں کیے جاتے۔
امریکہ، روس اور چین کے مقابلے فرانس کو سیکورٹی کے لحاظ سے درمیانے درجے کی لیکن ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ترقی یافتہ طاقت سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ الیزا پیلس ایک خودمختار ایٹمی ہتھیاروں کے ذخائر اور پیشہ ورانہ فوج کا مالک ہے لیکن وہ امریکہ کی عالمی بالادستی اور فوجی طاقت نیز اس کے دفاعی بجٹ اور روس اور چین کی وسیع میدانی صلاحیتوں سے بہت دور ہے۔ اقتصادی نقطہ نظر سے پیرس اپنی ترقی یافتہ، متنوع، اور سروسز اور صنعت پر مبنی معیشت کے ساتھ دنیا کی بڑی معیشتوں میں ایک مستحکم مقام رکھتا ہے لیکن یہ منڈی کے حجم، مالیاتی اثرورسوخ اور قومی کرنسی کے کردار کے لحاظ سے امریکہ اور چین کی دیومالائی معیشتوں سے بہت کم سطح پر ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ کا جارحانہ انداز، بین الاقوامی قانون کے زوال اور عالمی سیاست کی بے وقعیتی کا باعث بن رہا ہے۔
آمر کے احکامات سے عدم رضامندی
امریکی بیوروکریسی میں دیرینہ اتحادیوں کے درمیان محاذ آرائی نے مغربی دنیا کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے بارے میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے۔ دوسری طرف اس محاذ آرائی نے عالمی بساط پر چینی اور روسی اثرورسوخ کے پھیلاؤ کا زمینہ فراہم کیا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کی کچھ شخصیات اس معاملے پر شدید پریشان ہیں۔ اسی بارے میں سی این این نے اپنی رپورٹ میں کہا: "اگرچہ ٹرمپ کی ٹیم، سیکورٹی وجوہات کی بنا پر گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی اہمیت پر اس سے بڑی حد تک متفق ہے لیکن اس کے بہت سے اعلی مشیران سمجھتے ہیں کہ ان کا طریقہ کار بہترین نہیں ہے۔" امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سینئر مشیر نے اس کے موقف کے برعکس سی این این کو بتایا: "ہم گرین لینڈ کو اپنی ایک ریاست میں تبدیل نہیں کرنا چاہتے لیکن بے شک ہم ان کے ساتھ اتحاد کے لیے کوشاں ہیں۔"
جدید ورلڈ آرڈر کا نقطہ آغاز
شاید پہلی نظر میں یوں دکھائی دیتا ہو کہ یورپ سے اسٹریٹجک دوری کی قیمت پر گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کا اصرار معقول نہیں ہے لیکن گرین لینڈ نئے ورلڈ آرڈر کا نقطہ آغاز بن چکا ہے۔ یہ ایسی جگہ ہے جہاں بڑی طاقتیں اپنے اثرورسوخ کا تعین کرنا چاہتی ہیں۔ یورپی ممالک اب سمجھ رہے ہیں کہ یہ عمل چھوٹے ممالک کے لیے تباہ کن ہے۔ ٹرمپ نے اس سے پہلے گرین لینڈ اور وینزویلا پر قبضے کی کوششوں کو "نصف کرہ کے دفاع" کی چھتری تلے چھپا رکھا تھا لیکن اب کہتا ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے پورے براعظم امریکہ پر اس کا مکمل کنٹرول ضروری ہے۔ اس موقف نے قطب شمال کو مشترکہ تعاون کے خطے سے تبدیل کر کے میدان جنگ بنا دیا ہے جو استعماری دور میں "گریٹ گیم" سے بہت ملتا جلتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چین اور روس کے امریکہ کی امریکہ کے گرین لینڈ ہے لیکن کے ساتھ ٹرمپ کی رہے ہیں کیا ہے ہیں کہ کے لیے ہم پلہ
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔