Express News:
2026-06-02@23:58:52 GMT

مشرق وسطیٰ میں نئی جنگ!

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بڑے طمطراق سے اپنے مختلف انٹرویوز اور بیانات اور تقاریر میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے آٹھ جنگیں رکوائیں جن میں پاک بھارت ممکنہ ایٹمی جنگ بھی شامل ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے دوسرے دور حکومت میں دنیا کو جنگوں سے نجات دلا کر امن کا گہوارا بنانا چاہتے اور عالمی سطح پر ملکوں کے درمیان تنازعات و کشیدگی کو ختم کرانا چاہتے ہیں تاکہ جنگوں کی تباہی سے دنیا کے کروڑوں انسانوں کو محفوظ اور ان کے مستقبل کو روشن بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں، صدر ٹرمپ کی سوچ یقینا قابل تحسین اور مثبت قرار دی جا سکتی ہے اور اس کی پذیرائی بھی کی جانی چاہیے لیکن جب ہم عملی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات و فیصلوں کو دیکھتے ہیں تو وہ ان کی سوچ کے برعکس نظر آتے ہیں اس کی تازہ مثال ایران کے خلاف جارحیت کے ارتکاب کے حوالے سے ان کا تازہ بیان ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ایران جلد ایٹمی معاہدہ کرے ورنہ حملہ کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں لکھا ہے بلکہ ایران کو خبردار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق مذاکرات کے لیے آمادہ ہو جائے بصورت دیگر امریکا کا اگلا حملہ پہلے سے زیادہ خطرناک، خوفناک اور شدید ہوگا۔ یہاں واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ سال جون میں اپریشن مڈنائٹ ہیمر کے نام سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تھا جس میں 100 سے زائد طیارے شامل تھے اور خاص طور سے بی۔2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے امریکا سے براہ راست پرواز کرکے ایران کی جوہری تنصیبات پر بینکر بسٹر بم گرائے تھے جس کے بعد صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی زیر زمین ایٹمی تنصیبات تباہ کر دی ہیں۔ جب کہ ایران کا موقف تھا کہ اس نے امریکی حملے سے قبل ہی اپنے جوہری اثاثے منتقل کر دیے تھے۔

صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکیوں اور ممکنہ حملے کے حوالے سے ایران نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے امریکا پر واضح کر دیا ہے کہ دھمکیوں کے ماحول میں مذاکرات نہیں ہو سکتے، امریکا سے بات چیت اسی وقت ممکن ہے جب دباؤ اور غیر معمولی مطالبات ختم ہوں۔ ایرانی حکومت کی خاتون ترجمان فاطمہ مہاجرانی کا کہنا ہے کہ سفارت کاری ترجیح ہے مگر جنگ کی صورت میں جواب دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔

ترکیہ، قطر، سعودی عرب، چین، روس اور پاکستان سمیت تمام اہم عرب اور یورپی ممالک اور اقوام متحدہ کی جانب سے امریکا پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ ایران پر حملہ کرنے سے گریز کرے اور سفارت کاری کے ذریعے ایران کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے تاکہ مشرق وسطیٰ کا امن تباہ نہ ہو۔ وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے ایران تنازع کے حل کے لیے پائیدار مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انھوں نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے خطے کی نازک صورت حال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ایران امریکا تنازع کے حل کے لیے سفارتی تبادلہ خیال کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ابھی چند ہفتے قبل بھی پاکستان اور عرب ملکوں کی سفارتی کوششوں سے ایران پر امریکی حملے کا خطرہ ٹل گیا تھا اور صدر ٹرمپ نے حملے سے گریز کرتے ہوئے ایران کو موقع فراہم کیا تھا ایران آج بھی امریکا سے بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

لیکن صدر ٹرمپ اپنی افتاد طبع کے باعث دو طرفہ مذاکرات کے ماحول کو سازگار بنانے کی بجائے کشیدگی کو ہوا دے کر ایران پر پہلے سے زیادہ شدت سے حملے کی دھمکیاں دے کر گفتگو کے ماحول کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔ انھوں نے ایران پر حملے کے لیے اپنا ذہن بنا رکھا ہے جس پر عمل درآمد کے لیے وہ قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے اپنا دوسرا بحری بیڑا بھی ایران کی طرف روانہ کر دیا ہے۔ جواب میں ایران نے بھی بحری مشقیں شروع کر دی ہیں جس کے باعث کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور جنگ کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔

عالمی دفاعی تجزیہ نگار اور مبصرین صورت حال کی نزاکت اور امکانی ایران امریکا جنگ کے تناظر میں امریکا کو خبردار کر رہے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی میں اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے گا۔ مشرق وسطیٰ کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار مائیکل ڈوران نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں امریکا کو غیر متوقع ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت خطے میں وسیع اثر و رسوخ رکھتی ہے، حملے کی صورت میں مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر ٹوٹ پھوٹ ہو سکتی ہے۔ نیتن یاہو بھی جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے گویا امریکی حملے کی صورت میں جنگ کا دائرہ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل سکتا ہے جو خطے کو ایک نئی جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی صورت میں کرتے ہوئے ایران کے کہ ایران ایران کی ایران پر انھوں نے رہے ہیں کے لیے دیا ہے

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام