data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) عافیہ موومنٹ کی چیئرپرسن اور ملک کی معروف نیورو فزیشن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ان گمنام ہیروز کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے انتھک جدوجہد کی۔ اس موقع پرکنونشن میں شریک افراد اور ہزاروں کی تعداد میں آن لائن سپورٹرز نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی جدوجہد جاری رکھنے کا عہد کیا جبکہ سینکڑوں رضاکاروں نے اپنے خون سے دستخط کر کے عہد کیا کہ عافیہ کی واپسی تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔ شیلڈز اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے اور واپسی پر عافیہ سے خصوصی ملاقات کیلیے 3 خصوصی وی آئی پی پاسز بھی تقسیم کیے گئے۔ اتوار کو ٹیپو سلطان ہال میں عافیہ موومنٹ وولنٹیئر کنونشن اور ایوارڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاہم آج پاکستان کے دمکتے ستارے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے غیر متزلزل جذبے کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان گمنام ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی آزادی کے لیے انتھک جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ، ایک ماہر تعلیم، ایک ماں، پاکستان کی ایک بیٹی، 22 سال سے اس جرم کی پاداش میں قید ہیں جو انہوں نے کیا ہی نہیں۔ ہم ان بہادر رضاکاروں‘ کارکنوں اور سپورٹرز کو سلام پیش کرتے ہیں جو چیلنجوں اور رکاوٹوں کے باوجود عافیہ کے ساتھ کھڑے رہے۔ آپ کی لگن انسانیت کی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ نے پاکستانی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے اپیل کی کہ عافیہ کووطن واپس لانے کا وقت آگیا ہے۔ وہ اس قوم کی بیٹی ہے اور اس کی رہائی کو یقینی بنانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا آئیے متحد ہو جائیں اور عافیہ کی آزادی کے لیے آواز بلند کریں۔ دنیا دیکھ رہی ہے اور تاریخ ہمارے اعمال کا فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم عافیہ کی آزمائش کے سفر میں ایک انتہائی اہم موڑ پر کھڑے ہیں، جب ہمیں امید ہے تو ہم ان لوگوں سے درخواست کرتے ہیں جو رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں وہ ایسا کرنا بند کر دیںکیونکہ حد ہو گئی ہے‘ عافیہ نے بدترین انسانی تشدد برداشت کیا۔ عافیہ کی بے گناہی ثابت ہو چکی ہے‘ اس کے باوجود وہ قید ہے کیونکہ جن لوگوں نے اس کی حفاظت کی قسم کھائی تھی‘ انہوں نے رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدوجہد جاری رہے گی۔ ڈاکٹر عافیہ کے امریکی وکیل کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ نے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان تمام لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس مشکل کیس میں انتھک محنت کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کا کیس تشدد کی سب سے خوفناک مثال ہے جس کا انہوں نے گزشتہ 25 سالوں میں مشاہدہ کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عافیہ صدیقی دنیا کی مظلوم ترین خاتون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ دنیا کی سب سے خوبصورت اور مضبوط قوت ارادی رکھنے والی نایاب شخصیت ہیں جن میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور آپ سب لوگ شامل ہیں۔ میں آپ کی ان کوششوں کا مشکور ہوں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سال ہم سب کو مزید محنت کرنا ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سال 2026ء عافیہ صدیقی کی آزادی کا گواہ بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت نیویارک کی عدالت میں اس کا مقدمہ چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس 349 صفحات پر مشتمل ایک پٹیشن ہے جس میں تقریباً 1000 معاون صفحات ہیں، جو ثابت کرتے ہیں کہ وہ بے قصور ہے۔ اسے اس کے بچوں سمیت اغوا کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مضبوط کیس ہے جو اس کی بے گناہی ثابت کرنے کیلیے کافی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس ان کی ہمدردانہ رہائی کیلیے درخواست بھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی وفاقی عدالتوں میں گزشتہ 40 سال سے جاری قتل کی کوشش کے مقدمات میں ڈاکٹر عافیہ کو تقریباً سخت ترین سزا سنائی گئی۔ ڈاکٹر عافیہ کے بعد صرف ایک مجرم کو سخت سزا ملی۔ اس نے کہا کہ اگر وہ قصوروار بھی تھی تو وہ اس سخت سزا کی مستحق نہیں تھی اور چونکہ وہ بے قصور ہے تو اس پر رحم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پراسیکیوٹرز کو پہلے ہی تجویز دے چکے ہیں کہ اگر وہ راضی ہوں تو ہم اس مرحلے پر اس کیس کو ختم کرنے کیلیے تیار ہیں۔ تاہم اس کے بعد بھی ہمیں جیل سے ان کی رہائی کیلیے اور مالی وسائل کا بندوبست کرنا ہے تاکہ اسے مناسب طبی امداد مل سکے جس سے وہ برسوں سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کو آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ انہیں ان کی ہمت اور استقامت پر خراج تحسین پیش کرنے کیلیے آپ کے خطوط کی ضرورت ہے۔ عافیہ کو ہماری دستخطی مہم کی ضرورت ہے۔ انہیں اپنے بنیادی حقوق کی بحالی کی ضرورت ہے۔ اسے ایک مسلم امام کی مدد کی بھی ضرورت ہے جس کیلیے امام عمر سلیمان پوری طرح تیار ہیں لیکن انہیں جیل میں اس سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔

 

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: خراج تحسین پیش عافیہ صدیقی کی ضرورت ہے عافیہ کی عافیہ کو ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی