ماڑی گیس کنٹریکٹر ورکرز یونین کی تقریب حلف برداری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماڑی گیس کنٹریکٹر ورکرز یونین (سی بی اے) ڈہرکی کی تقریبِ حلف برداری منعقد ہوئی، جس میں نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی مہمانِ خصوصی تھے۔ انہوں نے عثمان مہر اور ان کی کابینہ سے حلف لیا۔ تقریب سے جمشید فیض ماکو ایڈووکیٹ (سپریم کورٹ)، یونین کے صدر عثمان مہر اور این ایل ایف سندھ کے صدر شکیل شیخ نے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ پاکستان میں ساڑھے 8کروڑ مزدوروں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ ملک کے 83 فیصد مزدور جو کھیتوں، منڈیوں، بازاروں، فشریز، دکانوں، ہوٹلوں، پٹرول پمپوں، پاور لومز، تعمیرات، راج مزدوری، ڈرائیونگ، کنڈکٹری، ریڑھی، رکشہ، چھابڑی، مکینک، الیکٹریشن، ڈینٹر، پینٹر، بائیکیا، ٹیکسی ڈرائیورز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسے فوڈ پانڈا سمیت دیگر شعبوں میں کام کر رہے ہیں، لیبر قوانین اور سماجی تحفظ کے حقوق و مراعات سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریڈ یونینز کا دائرہ مسلسل سکڑتا جا رہا ہے اور ایسی قانون سازی کی جا رہی ہے جس کے ذریعے مستقل ملازمتوں کا خاتمہ کر کے ٹھیکیداری نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد مزدوروں کو مستقل بیگار کی کیفیت میں رکھنا ہے۔ کم از کم اجرت ادا نہیں کی جا رہی اور سماجی بہبود کے پروگراموں میں مزدوروں کی رجسٹریشن نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام ایک ٹرائیکا پر قائم ہے جو افسر شاہی، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے ناجائز مفادات کا محافظ ہے، جبکہ مزدوروں، کسانوں اور پسے ہوئے عوام کا استحصال کر رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام، مزدور اور کسان اپنی قوت کو منوائیں، اس نظام کے خلاف کھڑے ہوں اور اسے تبدیل کر کے عدل و انصاف کا نظام قائم کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ عدل و انصاف کے نظام کے قیام کے لیے محمد مصطفیؐ کی قیادت میں متحد ہونا اور ان کے نقشِ قدم پر چلنا ضروری ہے۔ ایسی قیادت کی پہچان یہ ہے کہ وہ امانت دار، دیانت دار، خدمت گزار ہو اور عوام کے حقوق کے لیے جان ہتھیلی پر رکھ کر جدوجہد کرے۔ اسی قیادت کے ساتھ چل کر پاکستان اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج تعلیمی ادارے اور اسپتال فروخت کیے جا رہے ہیں، قومی اداروں کو تباہ کر کے منافع بخش ادارے اونے پونے داموں سرمایہ داروں کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔ نجکاری کا یہ عمل نہ شفاف ہے اور نہ ہی پاکستان کے مفاد میں، جسے روکنے کے لیے منظم جدوجہد ناگزیر ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ مزدور قیادت کو اپنا طرزِ عمل بدلنا ہوگا، مفادات کی سیاست ترک کر کے مزدوروں کی حقیقی نمائندگی کرنا ہوگی۔ اب کسی کوتاہی کی گنجائش نہیں۔ مزدور لیڈرشپ کو چاہیے کہ وہ خود کو بدلے، ہوشیار ہو، اعلیٰ اخلاقی اقدار اپنائے، مزاحمت کے لیے خود کو اور مزدوروں کو تیار کرے، کیونکہ اب کھونے کو کچھ باقی نہیں، جو چھینا گیا ہے وہ واپس لینا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک عرب ماہر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بیک وقت بندش عالمی معیشت کو تباہ کر دے گی۔ ان دونوں آبنائے کا متبادل بنانے میں دہائیاں لگیں گی۔ بین الاقوامی معیشت کے معروف عرب ماہر ڈاکٹر کامل وزنة نے ایران میں جاری جنگ اور اہم سمندری گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب کی ممکنہ بندش کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو دنیا ایک ایسے حقیقی خطرے سے دوچار ہو جائے گی جو ہر فرد کی زندگی کو متاثر کرے گا اور عالمی منڈیوں کو مہنگائی کی ایک غیر معمولی لہر کی طرف دھکیل دے گا۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے عربی ویب سائٹ عربی 21 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باب المندب کا فوجی کشیدگی کے دوسرے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آنا عالمی منڈیوں میں استحکام کی بحالی اور معاشی بہتری کے عمل کو روک چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں بتدریج بڑھتے ہوئے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، اور اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ انتہائی سنگین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشیا اور توانائی کی ترسیل کے سمندری راستوں کی بندش دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافے اور تمام ممالک کے معاشی مسائل میں شدت کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب مسئلہ صرف ایک آبنائے کی بندش تک محدود نہیں رہا، بلکہ پوری کی پوری ریاستیں عالمی تجارت کے بہاؤ اور بنیادی وسائل تک رسائی سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے باعث یہ وسائل عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے خطے اور خصوصاً سعودی عرب پر اس بحران کے اثرات کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے خطے کے ممالک کی برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچے گا، اگرچہ سعودی عرب کی معیشت نسبتاً مضبوط اور زیادہ لچکدار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بحران نے پورے خطے میں معاشی سست روی پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات جائیداد کی مارکیٹ، روزگار، سرمایہ کاری کے مواقع اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی ترسیلاتِ زر پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اپنے علاقے یا اپنے ملک میں جاری جنگ سے فائدہ نہیں اٹھاتا، اسی لیے بحران کے خاتمے کے لیے جلد از جلد سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ اہم سمندری گزرگاہیں بند رہیں تو عالمی معیشت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی فوری یا تیار متبادل موجود نہیں ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے 20 سے 25 فیصد بنیادی وسائل اور توانائی کی ترسیل آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے ہوتی ہے، اور عالمی اسٹاک مارکیٹیں بھی متعدد بار اس صورتحال کے ممکنہ نتائج سے خبردار کر چکی ہیں۔
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منصوبوں کی کامیابی سیاسی استحکام سے مشروط ہوتی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے روس اور جرمنی کے درمیان گیس پائپ لائن کی مثال دی، جو مکمل ہونے کے باوجود یوکرین جنگ کے بعد تخریب کاری کا نشانہ بنی اور دھماکے سے تباہ کر دی گئی۔