واشنگٹن: ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی جانب سے علاقائی جنگ کے خدشے کے اظہار کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے حوالے سے اب بھی پُرامید ہیں۔

خامنہ ای نے اپنے بیان میں خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو اس کے اثرات پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی دھمکیاں ایرانی قوم کو خوفزدہ نہیں کر سکتیں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ایران کسی ملک پر حملے کا آغاز نہیں کرتا، لیکن اگر ایرانی قوم کو نشانہ بنایا گیا یا ہراساں کیا گیا تو سخت جواب دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں

ایران پر حملہ خطے میں جنگ کا باعث ہوگا، خامنہ ای کی امریکا کو تنبیہ

ایران سے ڈیل یا تصادم؟ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کو لاعلم رکھنے کا عندیہ دے دیا

ٹرمپ کا ایران کو خبردار کرنے والا پیغام، تہران نے مذاکرات میں پیشرفت کی تصدیق کر دی

آیت اللہ خامنہ ای کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاہدہ طے پانے کی امید رکھتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ خامنہ ای کی جانب سے علاقائی جنگ کی بات کرنا غیر متوقع نہیں، تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو یہ دیکھا جائے گا کہ ان کے خدشات درست ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک کسی معاہدے تک پہنچ جائیں۔

واضح رہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق اس وقت خطے میں چھ ڈسٹرائر جنگی جہاز، ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور تین لیٹورل کامبیٹ شپ تعینات ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خامنہ ای کی

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل