پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی ایم پی او تھری کےتحت گرفتاریاں چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی ایم پی او تھری کےتحت گرفتاریاں سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دی گئی۔
درخواست پاکستان تحریک انصاف سندھ کے جنرل سیکرٹری منصور علی و دیگر کی جانب سے دائر کی گئی ہے جبکہ درخواست میں چیف سیکرٹری سندھ ،سیکریٹری داخلہ سندھ ،آئی جی سندھ پولیس و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
عدالت نے درخواست کی فوری سماعت کی استدعا منظور کرلی۔
درخواست گزار کے مطابق یکم فروری کو سندھ حکومت نے تھری ایم پی او کےتحت نوٹیفکیشن جاری کرکے پی ٹی آئی کے 180 کارکنوں کے نظر بندی کے احکامات جاری کیے ہیں ۔
درخواست گزارکے وکیل علی طاہر کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے 8 فروری کو شٹر ڈاؤن ہڑتال اور پر امن احتجاج کا اعلان کیا تھا، درخواست گزار نےعدالت سے استدا کی ہے کہ عدالت ایم پی او کے تحت جاری نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تحریک انصاف ایم پی او
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔