جو پلٹ کر جواب نہیں دے رہا وہ کمزور نہیں صحیح وقت کا منتظر ہے: علیزے شاہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اکثر و بیشتر تنازعات میں گھری رہنے والی پاکستانی اداکارہ علیزے شاہ نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی پلٹ کر جواب نہیں دے رہا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ کمزور ہے بلکہ وہ صحیح وقت کا انتظار کر رہا ہے۔
علیزے شاہ پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ مختلف تنازعات کو ہائی لائٹ کر کے توجہ حاصل کرنے یا انہیں کیش کروانے کی کوشش کر رہی ہیں تاہم اب اداکارہ نے فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ان الزامات کی تردید کر دی۔
بطور چائلڈ آرٹسٹ شوبز میں قدم رکھنے والی اداکارہ نے مختصر وقت میں اپنی خوبصورتی اور شاندار اداکاری کی بدولت غیر معمولی شہرت حاصل کی، ان کے نمایاں ڈراموں میں عہدِ وفا، دل موم کا دیا، عشق تماشہ، میرا دل میرا دشمن، تقدیر، محبت کی آخری کہانی، کھیل، عشق بے پرواہ اور تانہ بانہ سمیت دیگر پروجیکٹس شامل ہیں۔
View this post on InstagramA post shared by @alizehshahofficial
حال ہی میں علیزے شاہ نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے اپنے آنے والے پروجیکٹس سے متعلق مداحوں کو آگاہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ وہ مسلسل شازیہ منظور اور یاسر نواز کے خلاف کیوں بولتی رہیں۔
علیزے شاہ نے کہا ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ میں توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک اور ویڈیو پوسٹ کر رہی ہوں، لیکن میں آپ کو اپنے آنے والے ڈراموں کے اسکرپٹس دکھانا چاہتی ہوں تاکہ یہ ثابت کر سکوں کہ میرے پاس کام کی کمی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 برسوں میں میرے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کے بعد مجھے وقفے کی ضرورت تھی، اسی لیے میں نے ڈراموں سے بریک لیا، میرے مینیجر نے مجھے ان واقعات پر بات نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا کیونکہ اس سے میری ساکھ مزید متاثر ہو سکتی تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا جا رہا تھا، وہ ایک ہی وقت میں کئی فنکاروں کو مینیج کرتے ہوئے دیگر اداکاراؤں سے بھی پیسے لے رہے تھے۔
اداکارہ نے کہا کہ میں یہ بھی واضح کرنا چاہتی ہوں کہ میں نے یاسر نواز کے خلاف آواز کیوں اٹھائی، اگر کسی کے ساتھ آپ کا برا تجربہ ہو تو ایک یا دو مرتبہ اس کا ذکر کیا جا سکتا ہے، لیکن آپ گزشتہ 5 برسوں سے مختلف پروگرامز میں میرا نام لے رہے ہیں، آپ نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ میں نے بدتمیزی کیوں کی اور نہ ہی آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے۔
شازیہ منظور کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے علیزے شاہ نے کہا کہ جہاں تک شازیہ منظور کا تعلق ہے تو میں نہیں سمجھتی کہ کوئی اپنی غلطی تسلیم کیوں نہیں کرتا۔
انہوں نے گلوکارہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میڈم! مجھے اس بات پر اعتراض نہیں کہ آپ نے مجھے دھکا دیا، لیکن آپ اسٹیج پر دیگر میزبانوں، ماڈلز اور دیگر افراد کے ساتھ بھی یہی رویہ اختیار کرتی رہی ہیں، میرے پاس اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ آپ بارہا مجھے نیچا دکھانے کی کوشش کرتی رہی ہیں، ایک مرتبہ آپ نے میرے گرنے سے متعلق پوسٹ ری شیئر کرتے ہوئے کیپشن لکھا تھا ’کچھ یاد آیا؟‘، میرے واقعے کے بعد آپ نے اپنے ٹی وی شو میں تقریباً ہر ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایٹر، اینکر اور ماڈل کے ساتھ یہی طرزِ عمل دہرایا، یہ سب جان بوجھ کر کیا جاتا ہے، حادثاتی طور پر نہیں۔
علیزے شاہ کا کہنا ہے کہ اگر آپ شازیہ منظور کو سرچ کریں تو سب سے پہلے جو ویڈیوز سامنے آتی ہیں وہ دوسروں کو دھکا دینے کی ہوتی ہیں، ویڈیوز پوسٹ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ میں توجہ حاصل کرنا چاہتی ہوں، اگر مجھے توجہ درکار ہوتی تو میں یوٹیوب چینل شروع کر سکتی تھی، میرے پاس اداکاروں کو بے نقاب کرنے کا وقت نہیں کیونکہ میرے کئی پراجیکٹس لائن میں ہیں۔
علیزے شاہ کو حقائق کھل کر بیان کرنے اور سچ بولنے پر مداحوں کی جانب سے بھرپور پزیرائی اور محبت مل رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علیزے شاہ نے شازیہ منظور کرتے ہوئے کہا کہ نے کہا کہ میں
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔