City 42:
2026-06-02@23:44:35 GMT

پاکستان کے بیرونی قرضوں میں اضافے کا خدشہ

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

ویب ڈیسک:  دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے نتیجے میں پاکستان کے بیرونی قرضوں کی واجب الادا رقم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 پاکستان کا بیرونی قرضہ اب تک 92 ارب ڈالر کے کل قرض میں سے 56 فیصد کثیر جہتی اور دو طرفہ قرضوں پر مشتمل ہے۔ 

گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کے بیرونی قرضے اور واجبات 130 ارب ڈالر کے لگ بھگ رہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ دیگر کرنسیوں (جیسے یورو، جاپانی ین اور برطانوی پاؤنڈ وغیرہ) کے مقابلے میں امریکی ڈالر کا مستحکم ہونا تھا۔ 

چور شادی پر جانے والی فیملی کے گھر کا صفایا کر گئے

لیکن گزشتہ چند دنوں میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی آنا شروع ہوئی ہے، جس سے یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ اگر کرنسیوں میں حالیہ رجحان برقرار رہا تو رواں سہ ماہی میں پاکستان کا’’قرض اور جی ڈی پی کا تناسبــ‘‘ تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔

تاہم، وزارت خزانہ نے پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی ’’ڈیٹ پالیسی اسٹیٹمنٹ‘‘ (قرض کی پالیسی سے متعلق رپورٹ) میں بتایا ہے کہ جون 2025 کے اختتام تک پاکستان کے بیرونی قرضے سالانہ بنیادوں پر 6 فیصد اضافے کے ساتھ 91.

8 ارب ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں، جو کہ 5 ارب ڈالر کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

آزاد کشمیر کے طلبا نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جدوجہد آزادی کو مشترکہ ذمہ داری قرار دے دیا

مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران، اس (بیرونی قرضے) میں 0.4 فیصد (0.35 ارب ڈالر) کی معمولی کمی واقع ہوئی۔
 

Ansa Awais Content Writer

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: پاکستان کے بیرونی ارب ڈالر

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ