پانی کو جنگی ہتھیار بنانے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہیں، صدر اور وزیرِ اعظم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کرتا ہے، اور اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔
ویٹ لینڈز کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں صدرِ مملکت نے ویٹ لینڈز کے تحفظ اور پائیدار انتظام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 1971 کے رامسر کنونشن کا فریق ہے، جس کا مقصد موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لیے ویٹ لینڈز اور ان کے وسائل کا تحفظ اور پائیدار استعمال ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چناب پر بھارت کی نئی فتنہ گری: پانی کو ہتھیار بنانا قابل قبول نہیں، شیری رحمان
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ویٹ لینڈز کی تباہی، تاریخی آبی دباؤ اور سمندری سطح میں اضافے کے باعث صوبہ سندھ کو غیر متناسب بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہداتی نظام، بشمول ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کے تبادلے کی معطلی، اعتماد اور پیش بینی کو نقصان پہنچاتی ہے، جبکہ موسمی دباؤ کے تناظر میں مزید تعاون کی ضرورت ہے۔
اپنے پیغام میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ 1960 کے مکمل اور منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ممالک کے درمیان پانی کے وسائل کے منصفانہ، قانونی اور پرامن استعمال کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کرتا رہے گا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان امن اور سچ کے ساتھ کھڑا ہے، بھارت کو پانی بطور ہتھیار استعمال نہیں کرنے دیں گے، بلاول بھٹو
وزیرِ اعظم نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کے آبی وسائل، جن میں جھیلیں، گلیشیئرز، اندرونی آبی ذخائر، ساحلی اور مینگروو حیاتیاتی تنوع شامل ہیں، ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور آبی نظم و نسق کے لیے نہایت اہم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
indus water treaty Pak India River Water پانی سندھ طاس معاہدہ ہتھیار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پانی سندھ طاس معاہدہ ہتھیار کہ پاکستان ویٹ لینڈز نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا
فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔
امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔
فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام
فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کالا ہرن کیس کیا تھا؟سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول
سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن