ترجمان وزارت صحت نے کہا ہے کہ پاکستان صحت کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔

تفصیلات کے مطابق ویکسین سازی میں پاکستان کے خود کفالت کے قومی وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سعودی عرب کا گیارہ رکنی اعلیٰ سطحی وفد آج پاکستان پہنچ رہا ہے۔

ترجمان وزارت صحت نے کہا کہ وزیر صحت مصطفی کمال کی گزشتہ سات ماہ کی کاوشوں کا یہ نتیجہ ہے۔ وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی سعودی عرب کے ہم۔منصب سے اب تک تین میٹنگز ہو چکی ہیں۔ جن میں ویکسین کی مقامی تیاری سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون جیسے کلیدی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ویکسین کی مقامی تیاری کے حوالے سے وزیر صحت مصطفی کمال کی سعودی عرب کے وزیرِ انڈسٹری کے ساتھ میٹنگ ہو چکی ہے۔ جن میں ویکسین مینوفیکچرنگ، فارماسیوٹیکل انڈسٹری اور صنعتی اشتراک پر پیش رفت ہوئی۔

مصطفی کمال نے بتایا کہ ملاقات میں دونوں طرف سے فوکل پرسنز مقرر ہوئے۔ پاکستان کی جانب سے ڈاکٹر عبید چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ فوکل پرسنز مقرر ہوئے۔

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے منسٹر آف انڈسٹریز کے سینئر ایڈوائزر نزار الحریری Nizar Y.

Al-Hariri مقرر ہوئے۔ اسی تسلسل میں پاکستان ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی سعودی وزارتِ صنعت کے ایڈوائزر کے ساتھ چھ تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں۔

مصطفی کمال نے کہا کہ مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کیلئے پر عزم ہیں۔ مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری ملکی ضروریات کو پورا کرے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مصطفی کمال ویکسین کی کی جانب

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ