پاکستان میں ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری کی جانب بڑی پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
ترجمان وزارت صحت نے کہا ہے کہ پاکستان صحت کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔
تفصیلات کے مطابق ویکسین سازی میں پاکستان کے خود کفالت کے قومی وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سعودی عرب کا گیارہ رکنی اعلیٰ سطحی وفد آج پاکستان پہنچ رہا ہے۔
ترجمان وزارت صحت نے کہا کہ وزیر صحت مصطفی کمال کی گزشتہ سات ماہ کی کاوشوں کا یہ نتیجہ ہے۔ وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی سعودی عرب کے ہم۔منصب سے اب تک تین میٹنگز ہو چکی ہیں۔ جن میں ویکسین کی مقامی تیاری سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون جیسے کلیدی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ویکسین کی مقامی تیاری کے حوالے سے وزیر صحت مصطفی کمال کی سعودی عرب کے وزیرِ انڈسٹری کے ساتھ میٹنگ ہو چکی ہے۔ جن میں ویکسین مینوفیکچرنگ، فارماسیوٹیکل انڈسٹری اور صنعتی اشتراک پر پیش رفت ہوئی۔
مصطفی کمال نے بتایا کہ ملاقات میں دونوں طرف سے فوکل پرسنز مقرر ہوئے۔ پاکستان کی جانب سے ڈاکٹر عبید چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ فوکل پرسنز مقرر ہوئے۔
وزیر صحت کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے منسٹر آف انڈسٹریز کے سینئر ایڈوائزر نزار الحریری Nizar Y.
مصطفی کمال نے کہا کہ مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کیلئے پر عزم ہیں۔ مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری ملکی ضروریات کو پورا کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مصطفی کمال ویکسین کی کی جانب
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔