شادی پر لاکھوں روپے اور 21 تولہ سونے کا جہیز لینے پر معروف یوٹیوبر تنقید کی زد میں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
بھارتی یوٹیوبر ارون پانور اپنی شادی کی ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد تنازعے میں آ گئے ہیں۔ ویڈیوز میں انہیں تقریباً 71 لاکھ روپے نقد اور 21 تولہ سونا دیا جاتا دکھایا گیا جسے خاندان نے ’دان‘ یا تحائف کے طور پر پیش کیا۔
یہ ویڈیوز جو بظاہر 2025 کے آخر میں ہونے والی شادی کی تقریب کی ہیں جو وائرل ہو گئیں اور سوشل میڈیا صارفین غصے میں آ گئے۔ صارفین نے اس تبادلے کو جہیز کے مترادف قرار دیا ہے جو بھارت میں 1961 کے ڈاؤری پروہیبیشن ایکٹ کے تحت غیر قانونی ہے۔
Meet YouTuber Arun Panwar.
> bro earn 20 – 25 lakh per month from YouTube.
> Still bro take dowry in the name of "Daan" from her family ????
>Bro get 71 lakh rupee cash & "21 Tola" Gold. pic.twitter.com/rRlMjA6S3L
— Sumit (@beingsumit01) January 31, 2026
رپورٹس کے مطابق ارون پانور کے یوٹیوب چینل کے 24 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز ہیں اور ماہانہ آمدنی تقریباً 20 سے 25 لاکھ روپے بتائی گئی ہے جس پر ناقدین نے سوال کیا کہ اتنے بڑے تحائف لینے کی ضرورت کیا تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹی کی شادی میں کروڑوں کے جہیز کے بینر، گاڑی، پلاٹ اور حج پیکج کے تحائف کی ویڈیو وائرل
صارفین کا کہنا ہے کہ اکثر یہ رسمیں ’تحائف‘، ’دان‘ یا ثقافتی روایت کے نام پر چھپائی جاتی ہیں تاکہ سماجی داغ یا قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔ قانون کے مطابق شادی کے سلسلے میں بڑے نقد تحائف یا قیمتی اشیاء جہیز کے زمرے میں آ سکتی ہیں اور اس کی مانگ یا قبولیت جرم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دلہے نے جہیز میں لاکھوں روپے لینے سے انکار کرکے باراتیوں کے دل جیت لیے
کئی لوگوں نے پانور کی بیوی کے لیے بھی تشویش ظاہر کی جو کہ ایک ماہر سرجن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، ایک اور صارف نے لکھا کہ اگر ایسے لوگ اس عمل کی اجازت دیتے ہیں تو پھر باقی کے لیے کیا امید ہے؟ میں صرف دعا کرتا ہوں کہ انہیں بعد میں مزید ’تحائف‘ کے لیے اذیت نہ دی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جہیز جہیز کی ویڈیو یوٹیوبر شادی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جہیز جہیز کی ویڈیو یوٹیوبر شادی کے لیے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔