الطاف حسین کی طبیعت اچانک بگڑ گئی، ہسپتال منتقل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کی طبیعت اچانک خراب ہونے پر انہیں ہسپتال میں داخل کر دیا گیا۔بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کا گزشتہ روز یکم فروری کو خون کا شمار خطرناک حد تک کم ہو گیا تھا۔ جس پر ڈاکٹروں کے مشورے سے فوری طور پر خون کی منتقلی کی گئی۔
ہم نیوز کے مطابق خون کی منتقلی کے بعد الطاف حسین کی حالت میں بہتری آئی۔ تاہم اب وہ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں۔ جبکہ ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں نے مزید تشخیص کے لیے مختلف طبی ٹیسٹ تجویز کیے ہیں۔ جن میں ای سی جی اور دل کی مسلسل نگرانی، سی ٹی اسکین، الٹراساؤنڈ اور خون کے جاری ٹیسٹ شامل ہیں۔ تاکہ خون کی منتقلی کے اثرات اور مجموعی صحت کا جائزہ لیا جا سکے۔
ناراض بول کر دہشت گردوں کے خلاف مؤقف میں ابہام پیدا کیا جاتا ہے ، ایسے ابہام سے دہشت گردوں کو تقویت ملتی ہے، رانا ثناء اللہ
ایم کیو ایم کے مطابق الطاف حسین کو حالیہ دنوں میں شدید جذباتی اور ذہنی دباؤ کا سامنا رہا ہے۔پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی جیو پولیٹیکل تبدیلیاں اور برطانیہ میں جاری قانونی و مالی معاملات اس ذہنی تناؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی نے الطاف حسین کے ہسپتال میں داخل ہونے اور جاری طبی عمل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی قیادت ان کی صحت سے متعلق صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم الطاف حسین
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک