محمود خان اچکزئی کی قومی اسمبلی میں تقریر یوٹیوب چینل پر لائیو ہونے سے روک دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمد خان اچکزئی کی تقریر کو یوٹیوب چینل پر لائیو نشر ہونے سے روک دیا گیا اور ارکان کو موبائل فونز پر بھی تقریر ریکارڈ کرنے کی اجازت نہیں ملی۔
بلوچستان کی صورت حال پر قومی اسمبلی میں ہونے والی بحث میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بھی اظہار خیال کیا۔
اپوزیشنم لیڈر محمود خان اچکزئی نے اپنی تقریر میں حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور حملہ آروں کی آزادانہ کارروائی پر سوالات اُٹھائے۔
تاہم اچانک قومی اسمبلی کے یوٹیوب چینل پر اپوزیشن لیڈر کی تقریر کو لائیو نشر ہونے سے روک دیا گیا جب کہ پریس لاؤنج میں بھی تقریر کی آواز غائب کردی گئی۔
اپوزیشن ارکان نے اس پر کھڑے ہو کر شدید احتجاج دیا اور مطالبہ کیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی رولنگ دیں کہ اپوزیشن لیڈر کی تقریر لائیو دکھائی جائے۔
اسی دوران پی ٹی آئی رکن داور کنڈی نے محمود خان اچکزئی کی تقریر کو موبائل پر ریکارڈنگ کی کوشش کی تو انھیں بھی روک دیا گیا۔
جس پر اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر میری تقریر نہیں دکھاتے تو نہ دکھائیں لیکن مجھے ریکارڈ کے لئے اپنی بات کرنی ہے۔
بعد ازاں محمود خان اچکزئی نے اپنی تقریر جاری رکھی اور بلوچستان حملے کو حکومت کی ناکامی قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کی تقریر
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔